کل کی بات ہے ۔۔۔ ٹوئٹر پر ہماری ریاست تلنگانہ کی دو اہم سیاسی جماعتوں کے حامیوں کے درمیان ہنگامہ برپا ہوا۔ سابقہ وزیر اعلیٰ کے ایک حالیہ بیان کو اشتعال انگیز الفاظ کا جامہ پہنا کر ٹوئٹ کیا گیا کہ: برسراقتدار حکومت عوامی بہبود اور زراعت کی سابقہ اسکیموں کو نہ صرف روک رہی ہے بلکہ نئی اسکیموں کو جاری کرنے میں بھی ناکام ہے۔
اس ٹوئٹ پر برسراقتدار حکومت کے ایک سیاسی وفادار نے یوں کمنٹ کر دیا:
اور ماموں، تم کیا کرتے تھے، پی کر پڑے رہتے تھے ناں اپنے فارم ہاؤس پر!
یہ تو پتا نہیں کہ اس بات میں کتنی سچائی ہے لیکن یہ ضرور پتا ہے کہ یہ بات حیدرآباد کے گلی کوچوں میں پچھلے دورِ حکومت میں مشہور تھی اور اب بھی مشہور ہی ہے۔
پی کر پڑے رہنا ۔۔۔ ویسے یہ ایک بہت ہی قدیم حیدرآبادی مثال ہے۔
آئیے کچھ ماضی میں چلتے ہیں ۔۔۔ زیادہ نہیں، بس یہی کچھ ڈیڑھ سو برس پیچھے۔
مقام اور وقت ہے: سابقہ نظام شاہی ریاست حیدرآباد دکن، آصف جاہ ششم میر محبوب علی خان کا دورِ حکومت۔
-----
ہادی بلگرامی واقعہ بیان کرتے ہیں کہ:
ایک روز میر محبوب علی خان آصف سادس نے دربار میں موجود مصاجبوں اور اعلیٰ سرکاری عہدیداروں سے دریافت کیا تھا کہ رعایا کی ان کے بارے میں کیا رائے ہے؟
وہاں موجود تقریباً تمام حضرات نے کہا کہ رعایا آصف سادس کو عالی دماغ، مدبر، کارواں، رحم دل اور فیاض سمجھتی ہے۔ اس موقع پر عماد الملک خاموش تھے۔ آصف سادس نے کہا: آپ نے کچھ نہیں کہا۔
عماد الملک نے جواب دیا: "لوگ کہتے ہیں کہ آپ شراب پی کر پڑے رہتے ہیں، کام کی طرف بالکل توجہ نہیں دیتے جس کی وجہ سے ریاست کا نظم و نسق بگڑ رہا ہے"۔
ایسا کہنے پر دربار میں سناٹا چھا گیا اور آصف سادس فوراً اندر چلے گئے۔ سب کو اس بات کا خدشہ تھا کہ عماد الملک پر سخت عتاب نازل ہوگا۔
دوسرے روز آصف سادس نے عماد الملک کو طلب کیا اور کہا کہ انہیں سب کے سامنے ایسا نہیں کہنا چاہئے تھا۔
عماد الملک نے جواب دیا: آصف سادس نے سب کے سامنے رائے طلب کی تھی۔ اگر وہ سب کے سامنے ایک بات کہتے اور خلوت میں دوسری تو یہ جھوٹ اور منافقت ہوتی۔
آصف سادس کی بند مٹھی میں الماس (ہیرا) تھا۔ انہوں نے مٹھی کھولی اور عماد الملک کو الماس عطا کیا۔ آصف سادس کا عطا کردہ الماس عماد الملک کے پاس سے چوری ہو گیا تھا۔ چور نے الماس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے تھے۔ الماس کے وہ ٹکڑے بازار سے حاصل کئے گئے اور ایک ٹکڑے سے عماد الملک نے انگوٹھی بنوائی تھی۔
ہادی بلگرامی نے دوران گفتگو اس خیال کا اظہار کیا کہ عماد الملک وسیع النظر، روشن خیال، فراخدل اور وسیع المشرب تھے۔ انہوں نے تقررات اور مستحق افراد کو امداد دینے اور دلوانے میں کبھی مذہبی تنگ نظری سے کام نہیں لیا۔ اس بارے میں مولوی عبدالحق نے بھی ایسے ہی خیالات کااظہار کیا ہے۔ چنانچہ وہ اپنے مضمون مطبوعہ 'نقوش شحصیات نمبر' میں لکھتے ہیں:
"سر رشتہ تعلیمات بہت وسیع محکمہ ہے اور سینکڑوں آدمیوں کا تقرر ان کے ہاتھ میں تھا لیکن انہوں نے کبھی مذہبی پاسداری سے کام نہیں لیا۔ اس معاملے میں وہ بہت فراخدل تھے۔ بعض عیسائی مشنریوں اور دوسرے غیر اسلامی اداروں کو جو اشاعت تعلیم کا کام کر رہے تھے وقتاً فوقتاً مدد دیتے تھے "۔
-----
(بحوالہ مضمون: نواب عماد الملک بہادر آصف جاہی حیدرآباد کی جلیل القدر شخصیت، از: ڈاکٹر سید داؤد اشرف)
واضح رہے کہ ۔۔۔ نواب عماد الملک بہادر سید حسین بلگرامی (پیدائش: 1842ء، صاحب گنج، گیا، بہار - وفات: 1926ء، حیدرآباد) حیدرآباد دکن کی وہی نامور علمی و ادبی شخصیت ہے جو تحقیق و تدوین کے تاج محل اور علمی کتابوں کی نشر و اشاعت کے قطب مینار یعنی 'دائرۃ المعارف العثمانیہ' کے بانیان میں شمار ہوتی ہے۔ یہ ہندوستان کے ایسے پہلے مسلمان بھی رہے جنہیں 1906ء میں انڈین لیجسلیٹیو کونسل اور یونیورسٹی کمیشن کا رکن بنائے جانے کا شرف حاصل ہوا تھا۔
*****
تحقیق مع کمپوزنگ اور امیج ایڈیٹنگ از: مکرم نیاز (حیدرآباد)۔
24/دسمبر/2025ء


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں