تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ - میرا شہر لوگاں سے معمور کر ‫!

میرا شہر لوگاں سے معمور کر ‫!

باتاں نہیں کرتے ہم حیدرآبادی

test banner

Post Top Ad

Responsive Ads Here

Post Top Ad

Responsive Ads Here

2010/10/13

تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟

سورہ الرحمٰن میں ایک آیت 31 مرتبہ دہرائی گئی ہے
فبأي آلاء ربكما تكذبان
پس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟

بچپن سے یہ آیت دہراتے آ رہے ہیں۔ مگر ۔۔۔۔۔ آج جب ایک ایمیل ملا تو اس آیت کے نئے معانی بھی علم میں آئے۔ آپ بھی ملاحظہ فرمائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

قرآن کریم میں لکھا ہوا ہر لفظ معتبر ہے ، چاہے وہ ایک بار ہی لکھا ہو
اور جو آیت ، ایک سورۃ میں 31 مرتبہ دہرائی جائے ، کیا اس پر ہم نے کبھی غور کیا ہے؟

اور یہ فرمان کہ :
پس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟
کسی خاص طبقہ کے لئے نہیں بلکہ ہر انسان کے لئے ہے۔
یعنی ہم میں سے ہر ایک اپنی جگہ خوش قسمت ہے۔ ہم میں سے کوئی بھی اللہ کی نعمتوں کو جھٹلا کر اپنے آپ کو محروم و مظلوم نہیں کہہ سکتا۔

گننے کی بات یہ نہیں کہ کیا نہیں ملا ؟ بلکہ ۔۔۔۔
پہلے یہ گن لیا جانا چاہئے کہ ہمیں کیا کیا ملا ہے؟
اور جب ہم یہ گن لیں تو پھر اپنے خالق کا شکر بھی واجب ہے ، لہذا ربّ کائینات کی شکرگزاری کی جائے۔
جب ہمیں لگے کہ ہر نعمت گن بھی لی اور شکر کا حق بھی ادا کر دیا (جو کہ ممکن ہی نہیں) تو پھر ۔۔۔

تو پھر ۔۔۔
ہمیں احساس ہوگا کہ اب ایسا کچھ رہا ہی نہیں جس کی ناشکری کی جائے۔
اور اِس مقام تک پہنچتے پہنچتے یہ سمجھ آ جائے گی کہ :

جو ہمیں میسر ہے ، وہ ہمارا بھلا ہے اور جو نہیں ہے وہ بھی ہمارا بھلا ہے ۔۔۔ کہ :
اللہ سے زیادہ ہم سے کوئی پیار نہیں کر سکتا !!

1 تبصرہ:

  1. SubhanAllah , Allah apnay bandon ko70 maan say zeyada chata hai ,hamin har hall main uss ka shukar ada karna chaheyay ,Alhamdulilah , jazakAllah .

    جواب دیںحذف کریں

Post Top Ad

Responsive Ads Here