تعمیر نیوز - تازہ ترین

ہندوستان: ہندوستان: شمالی ہند: جنوبی ہند: مشرقی مغربی ہند: تجزیہ: تجزیہ:
ہند - تاریخ/تہذیب/ثقافت: تاریخ دکن: مسلمانان ہند: کلاسیکی ادب: اردو ہے جسکا نام: ناول: جنسیات:

بتاریخ : ‪2011-07-28

مملکت خداداد پاکستان - حنا ربانی - نوجوانی ناتجربہ کاری

ہمارے محلہ کے پاشا بھائی فرماتے ہیں کہ ۔۔۔۔۔۔
وہ کیا فرماتے ہیں کہ ذرا دکنی الفاظ ہیں اور ذرا قابل اعتراض ہیں ۔۔۔ لہذا فصیح اردو میں یوں پڑھ لیں کہ ۔۔۔

"یار ! یہ پاکستان والوں کو کیا ہوا ، ایک خوبصورت ، نازک اندام مگر ناتجربہ کار خاتون کو اتنے بڑے اور اہم عہدے پر فائز کر دیا۔"

موصوف کا اشارہ حنا ربانی کھر کی طرف تھا جو کہ مملکت خداداد پاکستان کی وزارتِ خارجہ کی آجکل سربراہی کر رہی ہیں۔
پاشا بھائی تو خیر نچلے طبقے کے عوام سے تعلق رکھتے ہیں، انکے خیال کی تو اہمیت ہی کیا۔ مگر حیرت یہ ہے کہ روزنامہ "سیاست" جیسے معروف اخبار میں برسوں سے سیاسی تجزیاتی کالم تحریر کرنے والے رشید الدین صاحب بھی کچھ ایسی ہی بات لکھ گئے۔
ملاحظہ فرمائیں۔ لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔
ویسے بھی بعض ممالک میں ایک عجیب روایت چل پڑی ہے۔ دنیا سے بہتر تعلقات اور ملک کے مفادات کے تحفظ کیلئے وزارت خارجہ کا قلمدان خواتین کو دیا جا رہا ہے۔ امریکہ میں کونڈا لیزا رائیس کے بعد ہلاری کلنٹن اہم عہدے پر فائز کی گئیں اور انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا بھی ہے۔
امریکہ کی نقل کرتے ہوئے پاکستان نے 34 سالہ حنا ربانی کھر کو ملک کا وزیر خارجہ مقرر کیا۔ پاکستان نے سوچا ہوگا کہ اس کی خارجہ پالیسی جب امریکہ کی منظورہ ہے تو پھر کیوں نہ ہلاری کی ساتھی کے طور پر ایک خاتون کو وزیر خارجہ مقرر کیا جائے؟ ویسے بھی پاکستان کو خارجہ پالیسی میں زیادہ تر امریکہ پر ہی انحصار کرنا پڑتا ہے۔ وزارت خارجہ کیلئے عام طور پر تجربہ کار افراد کا انتخاب کیا جاتا ہے جو سفارتی امور سے واقف ہوں اور بہتر انداز میں دنیا کے سامنے اپنے ملک کی ترجمانی کر سکیں۔
پاکستان نے آخر کس تجربے کی بنیاد پر ایک نوجوان خاتون کو اس قدر اہم ذمہ داری سونپ دی؟ یہ امریکہ کی نقل ہے یا پھر زرداری کلچر؟
بحوالہ : روزنامہ سیاست ، سنڈے ایڈیشن ، 24/جولائی 2011ء

لگتا ہے ہمارے دوست اور سیاسی تجزیہ نگار رشید الدین بھائی کسی کی تیر نظر کے گھائل ہو گئے ہیں۔
حضور ! آئی۔اے۔ایس میں منتخب ہو کر جو افراد ملک کے پالیسی ساز اداروں میں پہنچتے ہیں وہ "نوجوان" ہی تو ہوتے ہیں۔ نوجوانی کو "ناتجربہ کاری" باور نہیں کرانا چاہئے۔
ہند کے معروف صحافی نکھل چکرورتی نے ایک مرتبہ لکھا تھا کہ ۔۔۔
اندرا گاندھی بین الاقوامی امور کی سیاست میں کم عمری میں ہی داخل ہو چکی تھیں۔
علاوہ ازیں نہرو کے وزارت عظمیٰ کے دوران تین مورتی ہاؤس میں اندرا گاندھی ہی سرکاری میزبان کی حیثیت سے ریاستی حکمرانوں کا خیال رکھا کرتی تھیں۔

اسی طرح ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں مرحومہ بےنظیر بھٹو بھی کم عمری میں ہی بین الاقوامی سیاست میں اپنی پہچان بنانے لگ گئی تھیں۔

کہا جا سکتا ہے کہ مذکورہ بالا دونوں خواتین کے پس پشت ایک مضبوط سیاسی خاندان اور سیاسی نظریات کا سہارا تھا۔ لیکن غور کیجئے کہ ایک خامی یہ بھی تھی کہ اس وقت نہ آج جیسی جدید تکنالوجی دستیاب تھی اور نہ ذرائع ابلاغ کی آسانی اور لامحدود سہولیات۔
اور آج اگر انٹرنیٹ اور موبائل کے جدید ترین ابلاغی دور میں ایک 20 سالہ نوجوان بھی بین الاقوامی امور سے واقف ہونے کیساتھ ساتھ ویب سائٹس ، بلاگز اور سوشل نیٹ ورکنگ سائیٹس کے ذریعے سیاسی سماجی معاشی تکنیکی تبصرہ و تجزیہ کرنے کے قابل ہو سکتا ہے تو 34 سالہ خاتون کیوں کر وزارت خارجہ کی ذمہ داری نبھانے کے قابل نہیں ہو سکتی ؟

کہنے کی ساری بات یہ ہے کہ دراصل ہمارے دوست رشیدالدین بھائی نے روشن خیال مسلمانوں کے ڈر سے اصل بات وہ نہیں کہی جو درحقیقت کہنا چاہتے تھے۔ اس کی طرف اشارہ البتہ ضرور کیا ہے ، جیسا کہ ایک جملہ یوں لکھا :
اسلامی اور مملکتِ خداداد کا دعویٰ کرنے والے اس ملک کے حال پر دنیا ہنس رہی ہے۔

سیدھی سی بات یہ ہے کہ عورت کی سربراہی کا اسلام قائل نہیں ہے۔ متواتر مستند روایات سے یہ بات ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ (مفہوم) : وہ قوم ہرگز فلاح نہیں پائے گی جس نے اپنے معاملات عورت کے سپرد کر دیے ہوں (بخاری

مگر چونکہ رشید الدین بھائی صاحب کو اور خود "سیاست" اخبار کو صحافت کے گدلے سمندر میں رہنا بسنا ہے جو ذرا روشن خیال دنیا ہے اور گلوبل ولیج مزاج کی صحافت کا مطالعہ بھی ذرا وسیع الذہن اور روشن خیال افراد فرمایا کرتے ہیں جو اسلام کو دورِ حاضر کے مطابق mould کرنے کے حامی ہیں ۔۔۔۔ لہذا کیا برا ہے اگر "خاتون کی سربراہی" کو نشانہ بنانے کے لئے "اسلامی روایات" کا سہارا لینے کے بجائے "نوجوانی یا ناتجربہ کاری" جیسی اصطلاحات نتھ کی لونگ کی طرح ناک میں ٹانک دی جائیں !!

ویسے یہاں یہ کہنے کو یارا نہیں کہ ہمارے مفکرِ ملت یعنی کہ علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ بھی روشن خیالی سے متاثر اور اس کے حامی تھے مگر جب بات اسلامی مزاج اور روایات کی آ جائے تو وہ کسی قسم کا سمجھوتا کرنے کے قائل بھی نہیں تھے۔
یقین نہ ہو تو افکارِ اقبال سے یہ بند ملاحظہ فرماتے جائیں ۔۔۔۔۔

نے پردہ نہ تعلیم نئی ہو کہ پرانی
نسوانیتِ زن کا نگہباں ہے فقط مرد
جس قوم نے اس زندہ حقیقت کو نہ پایا
اس قوم کا خورشید بہت جلد ہوا زرد

20 تبصرے:

خالد حمید نے لکھا ۔۔۔

:|

عنیقہ ناز نے لکھا ۔۔۔

پھر ایک حدیث کا سامنا تھآ مجھے\میں ایک حدیث کے پار نکلا تو میں نے دیکھا۔
کیا آپکو معلوم ہے کہ ہندوستان کے قلب میں واقع ریاست بھوپال میں لگاتار ایک ہی خاندان کی پانچ خواتین نے سربراہی کی ۔ شاید اس وجہ سے کہ اس وقت حدیث کا علم اتنا عام نہیں تھا۔
کیا یہ قانون قرآن سے ثابت ہے۔

Hyderabadi نے لکھا ۔۔۔

مجھے تو اپنے ملک کی ہسٹری کا قابل قدر علم ہے کیونکہ میں ایسے سرکاری امتحانات سے گزرا ہوں جہاں تاریخ ہند کا مطالعہ ناگزیر امر تھا ، لیکن آپ مجھے یہ ضرور بتائیے کہ بھوپال کی بیگمات کو "سربراہ" مقرر کرنا انگریز حکومت کا کارنامہ تھا یا اس وقت عالم اسلام کے تمام اسکالرز اور علمائے کرام نے بھی اس پر مہرتصدیق ثبت کی تھی؟
قرآن سے تو نماز کا طریقہ بھی ثابت نہیں ، نصابِ زکوٰۃ کے بارے بھی قرآن کچھ بتاتا نہیں ، حتیٰ کہ ایک مسلمان کے مرنے پر اسے کیسا دفنایا جائے اس کے متعلق تک بھی قرآن خاموش ہے۔ کیا ان سب معاملات میں اپنی مرضی چلا لی جائے؟
ویسے آپ نے یہ جملہ بڑا زبردست لکھا کہ "شاید اس وجہ سے کہ اس وقت حدیث کا علم اتنا عام نہیں تھا"
یہ سچ ہے کہ کم از کم عوام کی حد تک تو حدیث کا علم عام نہیں تھا اور ذاتی طور پر ہم جدید تکنالوجی کے شکرگزار ہیں کہ اس کی بدولت ایک ایک حدیث کی صحت و ضعف ہم پر آج روشن ہے ورنہ ہماری اکثریت کا دینی علم بہشتی زیور اور فضائل اعمال جیسی چند کتب تک محدود تھا ;) :p

Anonymous نے لکھا ۔۔۔

نجانے ان موصوفہ کو حدیث شریف سے اتنی چڑ کیوں ہے۔خود تو وکیپیدیا کے کچے پکے آرٹیکلوں اور کافروں کے نظریات کو ٹھوس حقائق کے طور پر پیش کرتی ہیں حالانکہ ان میں سے اکثر مضامین کو ۔خود وکی والوں نے سٹب قرار دیا ہوتا ہےSTUB
ان کا ایک اور مشغلہ ملحد اور بے دین قسم کے مصنفوں کی کتابوں کے ٹوٹے سکین کر کر کے اپنے بلاگ پر چلانا ہے۔
خود قرآن کریم میں اللہ پاک نے مسلمانوں کو صریحا حکم دیا ہے کہ ’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو تمہیں عطا کریں وہ لے لو اور جس کام سے منع کریں اس سے باز رہو۔‘
اگر قرآن کی بات ہے تو اس میں مذکور ایک ، ملکہ سبا، کے سواتمام بادشاہ مرد تھے۔ ملکہ سبا کا ذکر مثبت انداز میں نہیں۔ اور اسے بالآخر حضرت سلیمان علیہ السلام کی اطاعت اختیار کرنا پڑی۔
اللہ ہم سب کو صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائیں۔
عبدالرحمان

Anonymous نے لکھا ۔۔۔

حیدرآبادی صاحب میرے ایک سوال کا جواب دیجیئے گا،
قرآن میں مردوں کو قوام اس لیئے کہا گیا ہے کہ وہ مال خرچ کرتے ہیں،
کیا ایک عورت اگر اپنا مال اپنے گھر پر خرچ کرے تو اسے قوام مانا جاسکتا ہے؟؟؟؟
Abdullah

Anonymous نے لکھا ۔۔۔

حدیث پر بات بعد میں کریں گے،پہلے قرآن کے حکم کی وضاحت ہوجائے!

Anonymous نے لکھا ۔۔۔

جن دیگر مستبد مردوں نے مسلمان ممالک پر آہنی ہاتھوں سے حکومت جی، ان کے جواز حکمرانی کے بارے میں کب اجماع امت ہوا ؟

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین نے لکھا ۔۔۔

حیدر آبادی بھائی صاحب۔

آپ نے اور بھائی عبد الرحمان نے ویسے تو اپنے تبصروں میں کافی وضاحت سے بات کردی ہے مگر ۔۔ پاکستان اور اردو بلاگستان کی بدقسمتی سے محترمہ اپنے اپ کو "ہر موضوع فن مولا" سمجھتے ہوئے اس دیدہ دلیری سے احادیث سے لیکر اسلامی روایات اور کلچر سے ڈھیٹانہ طور ہاتھ صاف کرنے کی کوشش کرتی ہیں کہ انکی عقل پہ ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے۔

موضوع سے متعلق علم ہوتے ہوئے بھی اہل علم نہائت حلیمی اور آہستگی سے بات کرتے ہیں۔ مگر یہ تو علم کی گھٹڑی کا بوجھ اٹھانے کا بارہا اعلان کرتے ہوئے ایسی ایسی نگارشات پیش کرتی ہیں کہ حیرت ہوتی ہے کہ محترمہ عالمہ ہونے کی دعویدار ہیں۔۔۔

یا حیرت العجائب عالم لوگ ایسے ہوتے ہیں؟
اوپر جو انہوں نے ایک شاعر کے ایک شعر کی تُک بندی یا پیروڈی کرتے ہوئے اسے احادیث نبی صلٰی اللہ علیہ وسم پہ منبقت کیا ہے۔ اس پہ اسقدر اسلام دشمنی کے انتہائی نیچے اور گھٹیا مظاہرے پہ سوائے افسوس کرنے اور محترمہ کے لئیے ہدائت کے علاوہ کچھ نہیں کیا جاسکتا۔

لیلی کے لیلا کے مصادق ایک عدد سیارچہ نام بھی ہے۔ جسکی ذہنی حالت کافی مشکوک ہے اور اسکا ٹھیکہ صرف یہ ہی ہے کہ اچھے خاصے سلجھے موضوع کو ادہر ادہر کی ہانک کر اصل موضوع سے اس وقت ہٹانے کی کوشش کی جائے جب محترمہ موصوفہ سے دلائل سے بات کی جائے یا انھیں کچھ سمجھانے کی کوشش کی جائے۔

بہر حال یہ ان لوگوں کا مشن ہے۔ خدا انھیں ہدائت دے۔اور اللہ تعالٰی آپ کو جزائے خیر دے۔

Anonymous نے لکھا ۔۔۔

اس گوندل گند نے ہمیشہ کی طرح گند پھیلانے کی کوشش کی ہے،
یہ آدمی صرف جھوٹےالزامات لگانے کا ماہر ہے!
دوسروں کے معاملے میں ٹانگ اڑانا اس کی فطرت ہے!

اپنی جہالت پر جھوٹی عالمیت کا پردہ چڑھائے رکھتا ہے اور جان بوجھ کر دوسروں کو اشتعال دلانے کی کوشش کرتا ہے،
ہر وہ تبصرہ جو حقائق پر مبنی ہو مگر جس میں اس کی قوم کی اصلیت دکھائی گئی ہو اسے فورا ڈلیٹ کردینا اس کی عادت ہے!
دوسروں کی ہدایت کی دعا کرتا ہے مگرخود ہدایت سے کوسوں دور ہے!
عصبیت اس کا مذہب ہے!
جیسے میرا یہ تبصرہ اور کئی دوسرے اس نے مٹادیئے،

ابھی ایف بی آر والوں کا کرپشن بھی کھلا ہے، بیس ارب کا کرپشن کیاہے،اور پانچ سال میں ان خبیثوں سے صرف ستر لاکھ روپیہ ریکور ہوا ہے،
زرا معلوم تو کرو کہ انکا تعلق کہاں سے ہے،کراچی سے متحدہ سے،یا کہیں لیاقت علی خان کے خاندان کے نہ ہوں؟؟؟؟؟
تو پھر کب لکھ رہے ہو،ان مردودوں کے خلاف اپنے بلاگ پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟

فیصل آباد میں پولس والے کھلم کھلامنشیات کا دھندہ کررہے ہیں انہیں روکنے والا کوئی نہیں،
وہاں کی یونیورسٹی کے ہیڈ اف دی ڈیپارٹمنٹ سمیت ملازمین نئی نسل کو نشے کا زہر پلارہے ہیں ان کو پکڑنے والا کوئی نہیں،
اسلام آباد،راولپنڈی،لاہور،مردان،چارسدہ کے اعلی پولس افسران کار چوری کے کاروبار میں ملوث ہیں،
صرف اس ایک سال میں ساٹھ ہزار گاڑیاں چوری کی گئیں!

آجکل جیو والوں سے اسے سخت نفرت ہورہی ہے کہ ایک تو وہ امن کی آشاکی بات کیوں کررہے ہیں،اور پھر وہ ان کے کرپشن کے بھانڈے پھوڑے جارہے ہیں،انٹرنیشنل دہشت گردوں اور مجرمان کو جو طالبان کی آڑ میں چھپے تھے کو ننگا کررہے ہیں!!!

کل تک یہی جیو سچا تھا جب مشرف کو گالیاں دے رہا تھا،متحدہ کے خلاف جھوٹی رپورٹنگ کررہا تھا،طالبان کی حمایت کررہاتھا!!!!

حالانکہ یہ سارے کرپشن تو عدلیہ کھول رہی ہے،مگر عدلیہ کوکس منہ سے برا کہیں سو سارا نزلہ جیو اورآزاد میڈیا پر گر رہا ہے!!!!

Abdullah

Anonymous نے لکھا ۔۔۔

جن دیگر مستبد مردوں نے مسلمان ممالک پر آہنی ہاتھوں سے حکومت جی، ان کے جواز حکمرانی کے بارے میں کب اجماع امت ہوا ؟

ایک سوال گمنام نے بھی کیا ہے مجھے اس سوال کا جواب بھی چاہیئے!

Abdullah

Anonymous نے لکھا ۔۔۔

جاوید گوندل
اچھا یہ بے لاگ کا ڈرامہ صرف کراچی والوں،متحدہ اور ان کے ہم دردوں کو گالیاں دینے کے لیئے شروع کیا تھاکیا؟؟؟؟؟؟؟؟؟

دوسروں کو تبصرے مٹانے کا طعنہ دینے والے تمھیں بھی تو اختلاف رائے کی اورسچ سننے کی برداشت نہیں،
کب تک اپنے گند کو ڈھانک ڈھانک کراور دوسروں پر الزام ڈال ڈال کر بچتے رہو گے؟؟؟؟؟

میرے تبصرے مٹا کر تم اور تمھارے جیسے محض اپنے شتر مرغ ہونے کا ثبوت دے رہے ہیں اور بس!!!!

Abdullah

Hyderabadi نے لکھا ۔۔۔

عبداللہ بھائی صاحب۔ اگر موضوع پر رہ کر سوال کیا جائے تو جواب دینے کی بھی امنگ ہوتی ہے۔ آپ آنکھ کا علاج کرنے گھٹنا پھوڑنے کی بات کریں گے تو کیسا ہوگا پاشا؟ لولز۔
قرآن میں نماز کی مرکزی شرط "وضو" بیان کی گئی ہے۔ اگر پانی نہ ملے تو شرط پوری کرنے کا جو طریقہ قرآن بتاتا ہے اس کو "وضو" کے بجائے "تیمم" کیوں کہتا ہے؟ اور "تیمم" کی اگر اجازت بھی دیتا ہے تو اسے "اگر پانی نہ ملے" سے مشروط کیوں رکھتا ہے؟
مسلمان ممالک پر آمرانہ حکمرانوں کی بات تو بعد میں ہوگی پہلے تو آپ "طرز حکمرانی" کو قرآن و سنت سے ہی ثابت کروا دیں۔
اور بھائی لوگ۔ ذرا دھیرج دھیرج۔ غریب خاکسار یہاں کوئی فتویٰ وتویٰ نہیں جھاڑ رہا۔ حنا ربانی کے حوالے سے ایک بات ضمنی آ گئی اسے بیان کر دیا ہے۔ ورنہ ہمیں کون سا روشن خیالوں سے دشمنی کا شوق ہے؟ ایک یہ حدیث کیا ہزارہا احادیث پر ہمارا عمل صفر ہے ، اب یہ تو نہیں ہو سکتا کہ انہیں کتب احادیث سے حذف کروا دیا جائے۔ لہذا بہتر یہی ہے کہ چپ چاپ مان لیا جائے کہ ہاں جی جس طرح سیکڑوں سنتوں کی ہم دن رات پامالی کرتے جاتے ہیں ان میں یہ ایک بھی شامل ہے۔
ہم تو جی کھلے عام کہتے ہیں کہ مشرکین کے درمیان رہ کر بس ایسے ہی ہم بےعمل مسلمان بنے رہ گئے ہیں۔ ہاں ثابت شدہ سنت کا انکار کیا جائے بس یہ ہمیں منظور نہیں۔ اب اگر کچھ لوگ کسی سنت پر عمل نہ ہونے پر سنت کو سنت ماننے سے ہی انکار کر دیں تو یہ ان کی سوچ سمجھ کا قصور ہے۔ اس میں احادیث یا اسلام بچارے کا کیا قصور؟

اور عبداللہ پاشا بھائی۔ اس بار آپ کے سارے تبصرے ویسے ہی رکھ رہا ہوں ، مگر معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ اگر آئیندہ بھی آپ نے دیگر ساتھیوں پر اور موضوع سے ہٹ کر طعن و تشنیع شروع کی تو مجھے آپ کے تبصرے حذف کرنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔ امید کرتا ہوں کہ خیال رکھیں گے۔

Anonymous نے لکھا ۔۔۔

حیدرآبادی بھائی صاحب،یہ ہدایت مجھ سے پہلے آپ اس جاوید گوندل کو کریں کہ بے ہودگی کی ابتداء ہمیشہ یہ شخص ہی کرتا ہے!

Abdullah

SHUAIB نے لکھا ۔۔۔

محترمہ کو ٹرائل کے واسطے پہلے انڈیا بھیجا گیا ہے، اور انہوں نے اپنے ایک بیان میں جنوبی ہند دیکھنے کی خواہش بھی ظاہر کردی ہے ـ لال پیلے نہ ہوں پاشا، یہ حیدرآباد نہیں بنگلور دیکھنے کی خواہش مند ہیں P:

Urdudaan نے لکھا ۔۔۔

janaab, bahot KHoob!
aor haan, shaayad zidah haqeeqat likhna maqsood tha, zinda'e haqeeqat likh diya gaya.

Hyderabadi نے لکھا ۔۔۔

توجہ دلانے کا شکریہ اردوداں بھائی۔ ٹائپو غلطی تھی جسے اب درست کر دیا ہے۔
ویسے آپ کافی دن بعد تشریف لائے۔ دیکھ کر خوشی ہوئی۔

Anonymous نے لکھا ۔۔۔

حیدرآبادی بھائی۔ آپ کی ایک بات سمجھ میں نہیں آئی اس لئے وضاحت چاہتا ہوں ۔ امید ہے مایوس نہیں کریں گے ۔وہ یہ کہ آپنے لکھا ہے کہ ۔( ثابت شدہ سنت کا انکار کیا جائے بس یہ ہمیں منظور نہیں )۔ اس سے آپکی کیا مُراد ہے کیا غیر ثابت شُدہ سُنت بھی ہوتی ہے ؟ جواب سے ضرور مطلع فرمائیں نوازش ہوگی۔ جزاک اللہ
محمد رافع

یاسرخوامخواہ جاپانی نے لکھا ۔۔۔

بہت خوب جناب
آپ نے کوئی فتوی نہیں دیا۔
اپنی رائے اور محسوسات لکھ دیئے ۔
جو آپ سے متفق ہیں انہوں نے بہت خوب کہہ دیا۔۔
باقی لیلہ اور لیلہ کا لیلا ۔۔۔۔ان کے تبصرے ہی ان کے لئے کافی ہیں۔
آئیندہ کیلئے ان کے واہیات تبصرے مٹا دیا کریں۔
آپ کو کونسا تبصرے وصولنے کا شوق ہے۔
پڑھتے تو سب ہی ہیں آپ کی تحاریر۔۔۔۔۔۔

Hyderabadi نے لکھا ۔۔۔

یاسر بھائی۔ آپ کا بھی بہت بہت شکریہ۔ آپ کا تبصرہ مجھے دلچسپ لگا اور پسند بھی آیا۔
لوگوں کا کیا ہے ، اپنے مزاج مطابق تبصرہ کرتے ہیں۔ انہیں ویسے ہی رہنے دینا چاہئے تاکہ بعد میں حوالہ دینے کام آئے کہ حضور آپ نے بہت پہلے ایسی زبان ایسا لب و لہجہ بھی استعمال کیا تھا۔۔۔ لولز

Hyderabadi نے لکھا ۔۔۔

اجنبی بھائی صاحب۔ کم از کم میں جس مذہبی مسلکی معاشرے میں رہتا بستا ہوں وہاں ایسا ہی محسوس ہوتا ہے ۔۔۔ سنت ، جو کہ ثابت شدہ بھی ہوتی ہے اور غیرثابت شدہ بھی۔ اب یہ اور بات ہے کہ "ثابت شدہ" نامی سنت کو تمام برادران بلالحاظ مسلک ، صحیح احادیث سے ثابت کر دکھاتے ہیں۔ باقی جو "غیر ثابت شدہ" سنت ہوتی ہے ، اسے مذہبی پیشوائیان کی چمکتی دمکتی تاویلات سے ایسا ثابت کر دکھاتے ہیں کہ ۔۔۔۔ واللہ صحیح احادیث ان تاویلات کے آگے پانی بھرتی نظر آئیں ۔۔۔۔۔
مزید کیا کہوں بھائی۔ "القاب" کے پتھر برسنا شروع ہو جائیں گے ، لہذا اتنے پر اکتفا کیجئے۔

تبصرہ میں مسکانوں کے استعمال کیلئے متعلقہ مسکان کا کوڈ کاپی کریں
:));));;):D;):p:((:):(:X=((:-o
:-/:-*:|8-}:)]~x(:-tb-(:-Lx(=))

تبصرہ کیجئے