تعمیر نیوز - تازہ ترین

ہندوستان: ہندوستان: شمالی ہند: جنوبی ہند: مشرقی مغربی ہند: تجزیہ: تجزیہ:
ہند - تاریخ/تہذیب/ثقافت: تاریخ دکن: مسلمانان ہند: کلاسیکی ادب: اردو ہے جسکا نام: ناول: جنسیات:

بتاریخ : ‪2010-09-23

17-ستمبر اور 24-ستمبر

پچھلے دنوں حیدرآباد (دکن) میں قیام کے دوران ان دو تاریخوں (17-ستمبر اور 24-ستمبر) کے متعلق کافی تجسس اور سنسنی رہی۔

17-ستمبر

تصویر بشکریہ : وکی پیڈیا
اس تاریخ کے حوالے سے کچھ سیاسی اور سماجی جماعتوں نے ایک خاص دن منانے کا اعلان کیا تھا۔ کسی نے اس دن کو "یومِ آزادی" کا عنوان دیا ، کسی نے "یومِ نجات" کسی نے "سقوطِ حیدرآباد دکن" ۔۔۔ کسی نے کچھ اور کسی نے کچھ ۔۔۔
بات دراصل یہ ہے کہ سن 1948ء میں اسی تاریخ 17-ستمبر کو انڈین یونین کی افواج نے ریاست حیدرآباد دکن (مملکتِ آصفیہ) پر یلغار کرتے ہوئے حیدرآباد کو (جبراً ؟؟) انڈین یونین میں ضم کر لیا تھا۔
جن جن جماعتوں نے یومِ آزادی یا یومِ نجات (یعنی : آصف سابع حضور نظام میر عثمان علی خان کی شخصی حکومت سے نجات) منانے کا اعلان کیا تھا وہ غالباً تاریخی واقعات اور حقائق سے لاعلم ہیں یا پھر ان کا واحد مقصد مسلمانوں کے خلاف تعصب کو ہوا دینا اور فرقہ وارانہ فساد کو بھڑکانا رہا تھا۔
اگر یہ فرقہ پرست طاقتیں سمجھتی ہیں کہ نظام حکومت کی شکست سے انہیں فتح حاصل ہوئی ہے تو پھر انہیں چاہئے کہ نظام حکومت کی جانب سے قائم کردہ عوامی سہولیات کی تمام عمارتوں اور یادگاروں کو بھی ختم کر دیں ۔۔۔ مثلاً :
عثمانیہ جنرل ہسپتال ، ہائی کورٹ ، ریاستی اسمبلی ، جامعہ عثمانیہ ، آصفیہ لائیبریری ، نیلوفر ہسپتال ، عثمان ساگر ، حسین ساگر ، فلک نما پیلس ، خلوت پیلس ، نظامس عوامی ٹرسٹ وغیرہ وغیرہ

اس موضوع پر حیدرآباد کی واحد مسلم سیاسی جماعت "مجلس اتحاد المسلمین" کے صدر بیرسٹر اسد الدین اویسی نے بجا طور پر بیان دیا تھا کہ :
یہ دراصل سنگھ پریوار کا ایجنڈا ہے۔ ہم سب ہندوستانی ہیں۔ ہمارے لئے "آزادی" کا مطلب صرف 15-اگست پے۔ باقی سب دیگر تاریخیں غیر ضروری ہیں۔ یہ دراصل مسلمان حکمرانوں کے خلاف نفرت اور تعصب کا پرچار ہے اور اس سے صرف جذبات کی آگ ہی بھڑکے گی۔ اگر فرقہ پرست طاقتیں یہ جتانا چاہتی ہیں تو اس ہی دن مسلمانوں سے چھٹکارا حاصل ہوا تھا تو انہیں اس تاریخی حقیقت کو بھی یاد کرنا چاہئے کہ اس ہی دن پولیس ایکشن کے ذریعے ریاستِ حیدرآباد میں دیڑھ لاکھ سے زیادہ مسلمانوں کا قتلِ عام کیا گیا تھا۔

مملکت آصفیہ کی تاریخ پر عبور رکھنے والے ریٹائیرڈ آرمی کیپٹن لنگالہ پانڈو رنگا ریڈی ، اصل حقائق بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
** آزادی کا مطلب یہ ہے کہ کسی غیر ملکی دباؤ یا حکمرانی سے چھٹکارا پانا۔ جبکہ نواب میر عثمان علی خان کوئی غیرملکی حکمران نہیں تھے۔
** ہندوستان سے ملحق ہونے والی دیسی شاہی ریاستوں کی ترتیب میں حیدرآباد کا نمبر 562 واں تھا۔
** سقوطِ حیدرآباد صرف اور صرف انڈین یونین کی فوجی کاروائی کے سبب ہوا تھا۔ کسی عوامی تحریک کا اس میں مطلق دخل نہ تھا۔
** نظام حکومت کی جانب سے ہتھیار ڈالنے کا عمل 17-ستمبر کو نہیں بلکہ 18-ستمبر کو 4 بجے شام سے ہوا تھا۔
** نظام کی شاہی حکومت کو ختم کرنے کے بعد "جمہوریت" کا دور یکدم سے شروع نہیں ہو گیا تھا بلکہ فوجی حکومت قائم کی گئی تھی جو کہ طویل عرصہ تک برقرار رہی۔


24-ستمبر

UPDATE : اَپ ڈیٹ
سپریم کورٹ نے لکھنؤ ہائی کورٹ کی جانب سے دئے جانے والے فیصلہ کی تاریخ کو ایک ہفتہ کیلئے موخر کر دیا ہے !!
SC defers Ayodhya title verdict by a week

24-ستمبر 2010ء یعنی کہ کل جمعہ کو 60 سالہ طویل "مقدمۂ بابری مسجد" کا لکھنؤ ہائی کورٹ کے ذریعہ فیصلہ سنایا جانے والا ہے۔ سیاسی اور قانونی ماہرین اور تجزیہ نگاروں کے مطابق توقع یہی ہے کہ فیصلہ مسلمانوں کے حق میں ہوگا۔

واضح رہے کہ ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ اس بات پر نہیں ہے کہ بابری مسجد کس نے منہدم کی اور کیوں؟ بلکہ اس فیصلہ کا تعلق اس قضیہ سے ہے کہ ۔۔۔۔
وہ مقام جہاں 6-ڈسمبر-1992ء سے قبل چار صدیوں سے بابری مسجد ایستادہ تھی ، وہ بابری مسجد ٹرسٹ کی ملکیت ہے یا ان لوگوں کی جو اس مقام پر "رام جنم بھومی" ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں؟

بابری مسجد ایکشن کمیٹی کے بشمول ہندوستان بھر کی تمام مسلم تنظیموں نے اس بات کا اعلان کیا ہے کہ عدالت کا کوئی بھی فیصلہ مسلمانوں کو منظور ہوگا چاہے فیصلہ مسلمانوں کے حق میں ہو یا مخالفت میں۔
ہندوستان کے تمام مسلم علماء و قائدین نے تمام تر مسلم طبقات سے اپیل کی ہے کہ وہ فیصلے کا بلا لحاظ احترام کریں اور صبر و تحمل سے کام لیں۔ امن اور ہم آہنگی کو ہر قیمت پر برقرار رکھا جانا چاہئے۔ نہ خوشی کا اظہار کیا جائے اور نہ ہی غم کا۔

چند گھنٹے باقی ہیں فیصلہ سامنے آنے کو ۔۔۔۔۔۔۔
آپ بھی ہماری طرح انتظار فرمائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ملتے ہیں ایک چھوٹے سے بریک کے بعد !!!

3 تبصرے:

افتخار اجمل بھوپال نے لکھا ۔۔۔

حيدر آباد ميں جو کچھ 17 اور 18 ستمبر 1948ء کو ہوا اس کو صرف جموں کشمير کے مسلمان ہی سمجھ سکتے ہيں جن کے ساتھ اس بڑھ کر 27 اکتوبر 1947ء کو شروع ہوا اور آج تک جاری ہے
جموں ميں 7 نومبر 1947ء کو ختم ہونے والے 2 ماہ ميں 6 لاکھ مسلمان شہيد کر ديئے گئے تھے اور آج تک شہيد کئے جا رہے ہيں
بھارتی فوج يہ سب ظُلم اس جھوٹ کی بنياد پر کرتی آ رہی ہے کہ راجہ ہری سنگھ نے بھارت سے الحاق کيا تھا ۔ ہری سنگھ نے الحاق نہيں کيا تھا صرف مہلت مانگی تھی جس کے نتيجہ ميں 27 اکتوبر کو بھارتی فوجيں ہوائی جہازوں کے ذريعہ زبردستی جموں چھاؤنی کے ايئر پورٹ پر اُترنا شروع ہوئی تھيں

Abdullah نے لکھا ۔۔۔

لیجیئے فی الحال تو فیصلے کی تاریخ آگے بڑھ گئی ہے،
ویسے مہر آپی کا سجیشن یہ ہے کہ نہ مندر نہ مسجد وہاں ایک بڑی یونی ورسٹی تعمیر ہونا چاہیئے جس کی بنیاد انسانیت اور بین المزاہب ہم آہنگی پر رکھی جائے جو اس وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے!!!

باقی حیدرآباد دکن میں جو ظلم کیا گیا وہ تاریخ کا ایک حصہ ہے کسی کے جھٹلانے سے حقائق بدلا نہیں کرتے،ہم پاکستان والے تو مملکت آصفیہ اور نواب میر عثمان علی خان کے احسان مند ہیں اور رہیں گے جس طرح انہوں نے اس نوزائیدہ مملکت کی اپنے پیروں پر کھڑے ہونے میں مددکی!!!!!!
شدت پسند ہندوؤں کی ذہنیت بالکل شدت پسند مسلمانوں جیسی ہی ہے انتہا پسند کہیں کے بھی ہوں ایک جیسے ہی ہوتے ہیں!!!!!!!

Abdullah نے لکھا ۔۔۔

http://www.express.com.pk/epaper/index.aspx?Issue=NP_LHE&Page=Magazine_Page12&Date=20100918&Pageno=12&View=1

تبصرہ میں مسکانوں کے استعمال کیلئے متعلقہ مسکان کا کوڈ کاپی کریں
:));));;):D;):p:((:):(:X=((:-o
:-/:-*:|8-}:)]~x(:-tb-(:-Lx(=))

تبصرہ کیجئے