تعمیر نیوز - تازہ ترین

ہندوستان: ہندوستان: شمالی ہند: جنوبی ہند: مشرقی مغربی ہند: تجزیہ: تجزیہ:
ہند - تاریخ/تہذیب/ثقافت: تاریخ دکن: مسلمانان ہند: کلاسیکی ادب: اردو ہے جسکا نام: ناول: جنسیات:

بتاریخ : ‪2012-06-15

مجھے تم کبھی بھی بھلا نہ سکو گے - مہدی حسن

مجھے تم نظر سے گرا تو رہے ہو
مجھے تم کبھی بھی بھلا نہ سکو گے
نہ جانے مجھے کیوں یقیں ہو چلا ہے
میرے پیار کو تم مٹا نہ سکو گے

مری یاد ہوگی جدھر جاؤ گے تم
کبھی نغمہ بن کے کبھی بن کے آنسو
تڑپتا مجھے ہر طرف پاؤ گے تم
شمع جو جلائی ہے میری وفا نے
بجھانا بھی چاہو بجھا نہ سکو گے

کبھی نام باتوں میں آیا جو میرا
تو بےچین ہو ہو کے دل تھام لو گے
نگاہوں میں چھائے گا غم کا اندھیرا
کسی نے جو پوچھا سبب آنسوؤں کا
بتانا بھی چاہو بتا نہ سکو گے

---
ہمارے پرانے اسکولی ہم جماعت چکرورتی کا نیویارک سے فون تھا ابھی کچھ گھنٹے پہلے ۔۔۔ کہا : یار یہ سمجھاؤ اپنی بھابھی کو ۔۔ صبح سے بیٹھی ہیں اداس بس ۔۔۔
فون ریسیو کیا۔ بھرائی آواز ۔۔۔
"سید بھائی ! آواز خاموش ہوئی ۔۔۔"
بس اس کے بعد صرف سسکیاں ۔۔۔

یہ ناسٹلجیا بھی عجیب ہوتا ہے یار۔ ایک دور کو لمحے بھر میں سامنے لا دیتا ہے۔ اس زمانے میں تو کچھ بھی نہ تھا ۔۔۔ نہ موبائل نہ ایم پی تھری ڈرائیوز ۔۔۔ نہ اردو زبان و ادب و شاعری سے بےگانہ لوگ ۔۔۔
کٹر برہمن چکرورتی کو اردو شعر و ادب سیکھنے پر مجبور ہونا پڑا تھا ۔۔ ش ق سدھارنے پر دھیان دینا پڑا تھا ۔۔۔۔ بس کہیں سے بھنک ملی تھی کہ اپنی ہی جماعت کے نسائی سیکشن کی جس طالبہ کی ہر دم مدد کرنے وہ آگے آگے رہتا ہے وہ شہنشاہ غزل مہدی حسن کی سر سے پیر تک مداح ہے۔ پھر ایک تاریخ ہم چند دوستوں کے سامنے ہے کہ کس طرح اس بندے نے مہدی حسن کی غزلوں کے کیسٹوں کی ذاتی لائیبریری بنا لی۔
آج وہی طالبہ جسے ہم سب دوست اب مسز چکرورتی کی عرفیت سے جانتے ہیں ، آج وہ مسلسل اشکبار ہے !!

ہم کس کو کیسے سمجھائیں کہ آدمی یہاں جانے کے لئے ہی آتا ہے۔ وقت ختم ہو جائے تو واپس لوٹنا ضروری ہے۔ مگر جانے والوں کی کسک ۔۔۔۔۔
الوداع مہدی حسن !!
ہاں آپ کی آواز خاموش ہوئی ۔۔۔ وہ آواز جسے بچپن میں گلیوں گلیوں سنا ، اسکول کالج کے فنکشنز اس آواز کی ریکارڈنگ کے بغیر نہ چلے کبھی ۔۔۔ کتنی شادیوں میں اس آواز کے جلترنگ بجے ۔۔۔
یہ آواز 13/جون 2012 کو کراچی کے ایک ہسپتال میں خاموش ہو گئی۔ اللہ مرحوم کی مغفرت فرمائے۔

ہندوستانی ریاست راجستھان کے ایک گاؤں لونا میں پیدا ہونے والے مہدی حسن تقسیم ہند کے دوران 20 سال کی عمر میں پاکستان منتقل ہو گئے تھے۔ گذشتہ ماہ چیف منسٹر راجستھان نے اشوک گہلوٹ نے وزیر خارجہ ہند کو درخواست کی تھی کہ مہدی حسن اور ان کے اہل خانہ کو بغرض علاج ہندوستانی ویزا فراہم کیا جائے۔ راجستھان حکومت ان کے علاج معالجہ کی تمام ذمہ داریاں قبول کرنے کے لیے تیار ہے۔ مگر سیاسی مصلحتوں کے تحت شاید یہ ممکن نہ ہو سکا۔ ویسے حکومت راجستھان کی دعوت پر مہدی حسن نے سن 2000 میں راجستھان کا دورہ کیا تھا اور اپنے آبائی وطن لونا بھی گئے تھے۔
مہدی حسن کے غمزدہ خاندان سے تعزیت کرتے ہوئے وزیراعظم ہند ڈاکٹر من موہن سنگھ نے بھی اپنے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ مہدی حسن نے اپنے نغمات کے ذریعے برصغیر کی صوفی حسیت کو زندگی بخشی تھی۔ اردو غزل کے لئے ان کے شوق اور جذبے کے اثرات اور دھروپد روایات کو فروغ دینے کی ان کی تخلیقی کاوشوں نے عالمی موسیقی کے منظر عام پر ان کو خصوصی مقام عطا کیا ہے۔ ہندوستان کی مشہور گلوکارہ لتا منگیشکر نے بھی مہدی حسن کی گلوکاری کا اعتراف کرتے ہوئے ان کی آواز کو قدرت کا عطیہ قرار دیا۔ انڈین ایڈمنسٹریٹیو سروس کے ایک عہدیدار کے مطابق اگلے ماہ راجستھان کے ان کے آبائی گاؤں میں ان کا کانسے کا مجسمہ نصب کیا جائے گا اور ایک سڑک بھی ان کے نام سے منسوب کی جائے گی۔
ہندوستانی موسیقی کی دنیا کے کئی نامور شخصیات نے کہا کہ مہدی حسن کے انتقال سے غزل گلوکاری کے ایک زریں عہد کا خاتمہ ہو گیا ہے۔

متعلقہ تحریر :
'مجھے تم کبھی بھی بھُلا نہ سکو گے' : عارف وقار - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

2 تبصرے:

افتخار اجمل بھوپال نے لکھا ۔۔۔

میرے خیال میں یہ اُس سادہ مگر پُرخلوص دور کی آخری نشانی تھی ۔ اب تو انسان پر بے جان پرزے چھا چکے ہیں

پہلے والا حذف کر دیجئے ۔ حادثاتی طور پر شائع ہو گیا تھا

ارتقاء حیات نے لکھا ۔۔۔

مجھے جانے کیوں پرانی موسیقی ہی پسند ہے
جب کہ حال کی پیدائش ہوں میں بھی
پر موسیقی جسے کہتے ہیں وہ اب دکھائی نہیں دیتی

تبصرہ میں مسکانوں کے استعمال کیلئے متعلقہ مسکان کا کوڈ کاپی کریں
:));));;):D;):p:((:):(:X=((:-o
:-/:-*:|8-}:)]~x(:-tb-(:-Lx(=))

تبصرہ کیجئے