تعمیر نیوز - تازہ ترین

ہندوستان: ہندوستان: شمالی ہند: جنوبی ہند: مشرقی مغربی ہند: تجزیہ: تجزیہ:
ہند - تاریخ/تہذیب/ثقافت: تاریخ دکن: مسلمانان ہند: کلاسیکی ادب: اردو ہے جسکا نام: ناول: جنسیات:

بتاریخ : ‪2012-03-17

شادی کا رقعہ

Oh Allah! Guide this marriage to the best of understanding, happiness, prosperity and success, Ameen.
یہ اسراف نہیں تو اور کیا ہے؟ اخبار سے بھی بڑا یعنی 22.5 انچ لمبا اور 17.5 انچ چوڑا شادی کا قیمتی رقعہ، شادی کی دیگر بیجا رسومات کے رقعے بھی دیکھے جا سکتے ہیں

شادی کا رقعہ، دعوتیں لوٹنے والوں کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں ہوتا۔ بیشتر حضرات رقعے کے انتظار میں نظریں بچھائے بیٹھے ہوتے ہیں کہ کہیں سے کوئی رقعہ آئے اور وہ دندنداتے ہوئے شادی خانہ پہنچ جائیں ۔اس طرح کے مہمانوں کو ہم "دستر خوان کے دہشت گرد" بھی کہہ سکتے ہیں جو دستر خوان پر ہتھیاروں کے بغیر ہی ایسی دہشت برپا کرتے ہیں کہ معصوم اور سادہ لوح مہمان لرز لرز جاتے ہیں ۔جس طرح کچھ لوگ لفافہ دیکھ کر مضمون بھاپ لیتے ہیں ٹھیک اسی طرز پر کچھ دعوتی رقعہ دیکھ کر شادی کا مینو تاڑ لیتے ہیں ۔

سیاسی لٹیروں کی طرز پر ہم نے سن رکھاہے کہ دعوتی لٹیرے بھی ہوا کرتے ہیں ، جن کی آنکھوں میں رقعہ دیکھتے ہی ایک عجیب و غریب سی چمک آجاتی ہے ۔یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جنہیں اس بات سے کوئی سروکارنہیں ہوتا کہ شادی کس کی ہورہی ہے اور رقعہ کسے دیا گیا ہے ؟ انہیں تو بس دعوت کی تاریخ اور مقام سے مطلب ہوتا ہے ۔ کچھ دعوتی لٹیروں کے تعلق سے ہم نے یہاں تک سن رکھاہے کہ وہ شادی خانوں کے آس پاس ٹھیک اسی طرح منڈلاتے پھرتے ہیں جس طرح آوارہ کتے ،گوشت کی دکانوں پر!

"رقعہ"دراصل وہ کاغذ کا ٹکڑا ہوتا ہے جس میں دعوت سے متعلق ساری تفصیلات درج ہوتی ہیں۔ آج کل تو دعوتیں فون اور ایس ایم ایس کے ذریعے بھی دی جانے لگی ہیں (اب یہ الگ بات ہے کہ اس میں اخلاص کی کمی محسوس ہوتی ہے ) لیکن فضول خرچی یا اسراف کے کچھ شوقین ایسے بھی ہیں جو دعوت میں مختلف ڈشوں کے ساتھ ساتھ اپنی شان بگھارنے کی خاطر رقعے کے نام پر روپیہ پیسہ پانی کی طرح بہا دیتے ہیں بلکہ ان کی فضول خرچی کو دیکھ کرپانی بھی پانی پانی ہوجاتا ہے ۔
حال ہی میں شادی کاایک ایسا رقعہ ہماری نظروں سے گزرا کہ ہم دنیا سے گزرتے گزرتے رہ گئے!
اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اس رقعے کی ایسی کیا خاص بات تھی کہ ہماری جان پر بن آئی۔جس رقعے کا ہم ذکر کررہے ہیں ،اس کا سائز اخبار کے سائز سے کہیں زیادہ بڑا تھا۔ رقعے کی رنگینی بتارہی تھی کہ جیسے یہ 600 روپیوں سے 800 روپیوں تک کی مالیت کا ہے ، یعنی اس طرز کے 100 رقعوں پر جتنی رقم خرچ کی گئی اس میں کسی ایک غریب لڑکی کی شادی بآسانی ہو سکتی تھی۔ رقعے میں قرآنی آیات کا تو دل کھول کر استعمال کیا گیا تھا لیکن افسوس قرآنی تعلیمات یعنی فضول خرچی اور اسراف سے بچنے کی تلقین کو بڑی آسانی بلکہ بڑی بے شرمی کے ساتھ فراموش کردیا گیا تھا۔ رقعے کو نہایت دیدہ زیب پلاسٹک کی تھیلی (جسے تھیلا بھی کہہ سکتے ہیں) میں ٹھونسا گیا تھا اور اس تھیلی کی باقاعدہ ڈوریاں بھی تھیں جنہیں پکڑنے کے بعد رقعے میں موجود قرآنی آیات کی بے حرمتی کا خدشہ تھا۔
اس عظیم الشان اور فقیدالمثال رقعے کی تین عدد "ناجائز" اولاد بھی تھی جو رسم مہندی، رسم سانچق اوررسم مانجے کے رقعوں پر مشتمل تھی۔ مہندی والے رقعے کی رنگت مہندی کے رنگ سے مشابہ تھی جب کہ سانچق والے رقعے کی رنگت سبز تھی اور رسم مانجے والا رقعہ ، زرد رنگ کا تھا۔ اس دیدہ زیب اور پرکشش رقعے کو دیکھتے ہی بے ساختہ ہمارے لبوں پر "جب رقعہ ہو ایسا متوالا تو پھر دعوت کا عالم کیا ہوگا؟" کا فلمی نغمہ مچل اٹھا۔

جیسا کہ آپ جانتے ہیں آج کل شادی بیاہ کے نام پر لاکھوں کروڑوں روپئے برباد کیے جارہے ہیں ، نوشہ کے لیے جو اسٹیج تیار کیا جاتا ہے وہ کسی پرستان یا افسانوی محل کا کوئی حصہ معلوم ہوتا ہے ۔یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنی شان و شوکت کے مظاہرے کی خاطر غرباء و مساکین کا پہلے تجوری اور پھر دل کھول کر مذاق اڑاتے ہیں ۔ دلہا دلہن کے محض اسٹیج پر نہایت بیدردی سے چار سے دس لاکھ روپئے خرچ کر دیے جاتے ہیں ۔ رقص و سرور کی محفلیں سجائی جاتی ہیں اور رقاصاؤں کو بطور خاص ملک کی دیگر ریاستوں سے بلوایا جاتا ہے اور انہیں نچوا کر ایسے خوش ہوتے ہیں جیسے پرانی فلموں میں ہیروئن کو نچوا کر اجیت یا رنجیت خوش ہوا کرتے تھے۔ جھوٹی شان و شوکت کے متوالوں کی بس یہی خواہش ہوتی ہے کہ ان کی لاڈلی بیٹی یا لاڈلے بیٹے کی شادی ایسی یادگار ہو کہ زمانہ مدتوں یاد رکھے۔

اپنے آپ کو مذہبی عقائدکا پابند بتانے کے لیے " مسجد میں عقد ، دو لاکھ روپئے نقد" کے مصداق شادی تو کسی مسجد میں کی جاتی ہے لیکن لڑکے والوں کو جوڑے کی رقم کے نام پر لاکھوں روپئے دیے جاتے ہیں جب کہ استقبالیہ کسی فائیو اسٹار ہوٹل یا پھر کسی قیمتی شادی خانے میں دیا جاتا ہے ۔یہاں اس بات کا تذکرہ بیجا نہ ہوگا کہ جوڑے کی رقم کا چلن یہودیوں اور ہنود میں عام ہے اور ہم جوڑے کی رقم مانگ کر یا دے کر گویا ہنود اور یہودیوں کی تقلید کررہے ہیں ۔

حال ہی میں شہر میں ایک ایسی شادی بھی رچائی گئی تھی جس میں دلہے کی بارات میں پچاس سے زیادہ خوبرو نوجوان دلہے کی بارات کے ساتھ سوٹ بوٹ میں ملبوس چل رہے تھے اور جن کے ٹھاٹ باٹ دیکھ کر سنا ہے کہ ٹاسک فورس کے جوان بغلیں جھانکنے پر مجبور ہوگئے! اس دعوت میں 55 اقسام کی ڈشس تھیں اور بینڈ باجہ کچھ ایسا تھا کہ اچھے اچھوں کی بینڈ بج گئی۔ ایک اندازے کے مطابق تقریباً ایک کروڑ روپئے اس شادی پر خرچ کیے گئے تھے ۔

افسوس صد افسوس ! شہر میں دعوتوں کے نام پر ایک دوسرے پر بازی مار لے جانے کا رجحان دن بہ دن پروان چڑھتا جارہا ہے ۔کوئی اپنی بیٹی کی شادی پر ایک کروڑ روپئے خرچ کرتا ہے تو کوئی سوا کروڑ، یعنی سیر پر سوا سیر کا معاملہ ہے ۔ حد تو یہ ہے کہ مہندی ، سانچق اور مانجے تو چھوڑیے چھلے چھٹیاں اور سالگرہ جیسی بے مطلب اور فرسودہ رسومات پر بھی نہایت بے دردی کے ساتھ دولت لٹائی جارہی ہے ۔ یہ دیکھ کر بڑا دکھ ہوتا ہے کہ اخبارات میں اکثر شادی بیاہ کی تقاریب کی تصاویر شائع ہوتی ہیں جن میں علماء مشائخ کو خوشی خوشی تصویر کشی کرتے ہوئے دیکھا جاتا ہے۔
کتنی عجیب بات ہے کہ دلہے کے ساتھ یہ لوگ تصاویر اتارنے کو اعزاز سمجھتے ہوئے اسراف والی شادیوں میں شرکت کرتے ہیں ۔ دعوتی پیٹ بھر کر نہیں بلکہ دل بھر کر کھاتے ہیں اور پھر دستر خوان پر کئی چیزیں ادھوری چھوڑ جاتے ہیں، جس سے ایک طرف غذا کی بے حرمتی ہوتی ہے تو دوسری طرف بیجا اسراف کا افسوسناک مظاہرہ ۔تعجب ہے کہ اس طرح کا اسراف کرکے دولتمندحضرات کو اس قدر مسرت حاصل ہوتی ہے کہ ان کی آنکھوں میں تو خوشی کے آنسو جھلملانے لگتے ہیں جب کہ غریب و متوسط طبقہ روپئے پیسے کی تنگی کی بدولت خون کے آنسو رونے پر مجبور ہے۔

کیا دور آگیا ہے کہ سادگی سے کی جانے والی شادی کو " فلاپ شو" کا نام دیا جانے لگا ہے۔ ایک ایسی ہی دعوت میں شرکت کے بعد شہر کے معروف دعوتی جنہیں ہم " ماہر اقبالیات" کی طرز پر" ماہر دعوتیات" کہہ سکتے ہیں، نہایت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ہم سے کہنے لگے " آج کا دن میری زندگی کا سیاہ دن تھا۔"
ہم نے پوچھا " کیا ہوا؟" تو کہنے لگے:
" آج وہ ہوگیا جو نہیں ہونا چاہیے تھا۔"
" آخر ہوا کیا؟" ہم نے سوال دہرایا۔
"ڈھیر سارے ارمانوں کے ساتھ جب شادی خانہ پہنچا تو دل بلکہ "پیٹ" کے ارمان آنسوؤں میں بہہ گئے، کیونکہ مجھے وہاں صرف دو ڈشس پر اکتفا کرنا پڑا، مجھے تو لگاجیسے میں نے مکھی نگل لی ہے!"

خیر! ہم ذکر کررہے تھے شادی کے اس دلکش اور پرکشش قیمتی رقعے کا جو ہماری نگاہوں سے گزرا تو ہم دنیا سے گزرتے گزرتے رہ گئے !
جب 22.5 انچ لمبا اور 17.5 انچ چوڑا رقعہ ہمارے نازک نازک ہاتھوں میں آیا تو ہم سے وہ سنبھالا نہ گیا۔ ہم جیسے معاشی طورپر کمزور و ناتواں آدمی کا اس قدر " بھاری "(قیمتی ) رقعہ اٹھانا بھلا کہاں ممکن تھا۔ چنانچہ اس رقعے کو اٹھا کر ہم بہت دیر تک کسی شرابی کی طرح ڈولتے رہے اور پھر لڑکھڑا کر کسی سوکھے پتے کی مانند نہ صرف فرش پرڈھیر ہوگئے بلکہ اس "بھاری"رقعے کے بوجھ تلے ہماری منحنی شخصیت دب کر رہ گئی ۔ ہمیں بھاری بھرکم رقعے کے نیچے سے زندہ بچ نکلنا نہایت دشوار معلوم ہورہا تھا ۔چنانچہ ہم نے گھبرا کرمدد کے لیے چیخنا چلانا شروع کردیا ، درد و کرب میں ڈوبے ہمارے نعرے سن کر پھول بانو کچن سے دوڑی چلی آئیں اور شادی کے رقعے کے نیچے ہمیں دبا پڑا دیکھ کر ناک پر انگلی رکھتے ہوئے بولیں " ہائے ہائے ! آپ اخبار کے سائز والے دنیا کے نقشے کے نیچے پڑے پڑے کیا کررہے ہیں ؟"
" بیگم! یہ دنیا کا نقشہ نہیں ہے ، بلکہ شادی کا رقعہ ہے ۔" ہم نے کراہتے ہوئے جواب دیا۔
" شادی کا رقعہ؟"پھول بانو نے حیرت کا اظہار کیا۔
" ہاں ہاں ! شادی کا رقعہ!"ہم نے تڑپ کر کہا۔
" ہائے اللہ ! کتنا خوبصورت اور بڑا ہے ! "
پھول بانو نے رقعے کو غور سے دیکھ کر مسرت کا اظہار کیا۔
"بیگم!کیا تمہیں صرف رقعہ نظر آرہا ہے ، اور اس رقعے کے نیچے دبا پڑا شوہردکھائی نہیں دے رہا ہے جو زندگی اور موت کے درمیان جھول رہا ہے !" ہم نے تنک کر جواب دیا۔
"اب رہنے بھی دیجیے، رقعہ اتنا بھاری بھی نہیں کہ اس کے بوجھ سے آپ کی جان چلی جائے ۔" پھول بانو نے اترا کر جواب دیا ۔
"بیکار باتیں مت کرو، ہمارے نحیف و نزار وجود کو اس " بھاری "رقعے سے آزاد کرو، ہمارا تودم گھٹ رہا ہے۔"
پھول بانو نے جب ایک جھٹکے کے ساتھ رقعہ اٹھا کر بازو رکھاتو ہمیں لگاجیسے ہمیں نئی زندگی مل گئی ہے۔ البتہ رقعے کے بوجھ تلے دبنے کی بدولت ہماری سانسیں بے ترتیب ہو کر رہ گئی تھیں۔
" میں حیران ہوں کہ محض تین چار سو گرام وزنی رقعے تلے دب کر آپ کا دم کیسے گھٹنے لگا؟" پھول بانو نے حیران ہوکر سوال داغا۔
" بیگم! جسامت کے لحاظ سے ہو سکتا ہے کہ رقعہ اتنا وزنی نہ ہو لیکن اس رقعے پر جو کثیر رقم خرچ کی گئی، اس سے یہ رقعہ کافی " بھاری" ہوگیا ہے اور ہم اسی بوجھ تلے دبے پڑے تھے۔"
"آپ بھی کبھی کبھی بڑی عجیب و غریب سی باتیں کرتے ہیں ،اور جب جب آپ ایسی اوٹ پٹانگ باتیں کرتے ہیں،مجھے لگتا ہے کہ آپ کا دماغ چل گیا ہے !"
پھول بانو ہمیں الفاظ کے کانٹے چبھو کر دوبارہ کچن کی طرف چلی گئیں۔

دھیرے دھیرے ہماری سانسیں تو معمول پر آچکی تھیں لیکن "بھاری"( قیمتی) رقعے کے نیچے کافی دیر تک دبا رہنے کی بدولت یوں لگ رہا تھا جیسے ہمارے جسم کے مختلف اعضا ٹوٹ پھوٹ چکے ہیں۔ دماغ شدید چوٹ سے دوچار تھا تو ہمارا دل بری طرح سے ٹوٹ چکا تھا !

ہم سوچنے لگے کہ "شیطان کے بھائی" ( فضول خرچ حضرات) جتنے بے حس ہوتے ہیں، اتنے بے حس تو " بھائی" لوگ بھی نہیں ہوتے !ہم انہیں اسی وقت راہ راست پر لا سکتے ہیں جب ہم اس طرح کی تعیشات کی دعوتوں کا مکمل طورپر بائیکاٹ کریں!

مضمون نگار : حمید عادل

2 تبصرے:

Behna Ji نے لکھا ۔۔۔

اسلام علیکم
رقعہ بازی اتنی سبق آموز بھی ہو سکتی ہے، ہمیں خبر نہ تھی :)،
جزاک اللہ خیر بھائ ہلکے پھلکے انداز میں نصیحت کرنے کا، اللہ اسکو اتنی ہی آسانی سے ہمارے دل و دماغ میں بھی اتار دے جسقدر ہنستے کھیلتے ہم نے اسکو پڑھا آمین
ام عروبہ

Kauser Baig نے لکھا ۔۔۔

بہت بہت عمدہ لکھا ہے بھائی اور بہت اچھی بات کی طرف ہنستے ہنستے توجہ فرما رہے ہیں ۔ بہت اچھا انداز ہے آپ کا تحریر کرنے کا۔ اللہ اور خوب سے خوب تر ترقی کی طرف گامزان کرے ۔

آپکی بہن
کوثر

تبصرہ میں مسکانوں کے استعمال کیلئے متعلقہ مسکان کا کوڈ کاپی کریں
:));));;):D;):p:((:):(:X=((:-o
:-/:-*:|8-}:)]~x(:-tb-(:-Lx(=))

تبصرہ کیجئے