تعمیر نیوز - تازہ ترین

ہندوستان: ہندوستان: شمالی ہند: جنوبی ہند: مشرقی مغربی ہند: تجزیہ: تجزیہ:
ہند - تاریخ/تہذیب/ثقافت: تاریخ دکن: مسلمانان ہند: کلاسیکی ادب: اردو ہے جسکا نام: ناول: جنسیات:

بتاریخ : ‪2011-12-19

یہ کالی کالی زلفیں ۔۔۔۔

بالوں کی چار قسمیں ہوتی ہیں
  • خشک بال
  • چمکیلے بال
  • نارمل بال
  • وہ انسانی سر جو اپنے ہاں بال رکھنے سے بال بال بچ جاتا ہے
کہتے ہیں کہ آخری قسم مردوں میں زیادہ پائی جاتی ہے۔

شعراء حضرات نے بال کو گیسو ، زلف ، کاکل وغیرہ وغیرہ سے یاد کیا ہے۔ اور اپنے فرضی محبوب کی تعریف میں بالوں کو سنبل ، سانپ ، ناگن ، زنجیر ، سائباں ، بادل ، رات کا اندھیرا اور ساون کی گھٹا جیسے استعاروں سے تشبیہ دی ہے۔ اس کے علاوہ شعری انداز میں بھی تعریف کے ڈونگرے برسائے ہیں ۔۔۔ مثلاً
  • زلف جاں سے ملی فکر و نظر کی چاندنی
  • زلفوں کے پیچ و خم میں یہ عارض کی دھوپ چھاؤں
  • زلفیں دراز روئے منور زلفیں راتوں سی
  • کس نے کھولا ہے ہوا میں گیسوؤں کو ناز سے
  • اڑی زلف چہرے پہ اس طرح کہ شبوں کے راز مچل گئے

نگار خانے کے نغموں میں بھی زلفوں کا ذکر بڑے دلنشین انداز میں بیان کیا جاتا رہا ہے ۔۔۔
  • تری زلفوں سے جدائی تو نہیں مانگی تھی
  • چہرہ ہے یا چاند کھلا ہے زلف گھنیری شام ہے کیا
  • یہ جھیل سی گہری آنکھیں ، زلفوں کا رنگ سنہرا
  • لٹ الجھی سلجھا جا رے بالم

ویسے آجکل کی نوجوان نسل بھی کیا خوب ہے ، بقول شاعر :
اس طرح بن ٹھن کر نکلتا ہے وہ کالج کے لئے
مجھ کو گلزار بھی گلنار نظر آتا ہے

اور پھر مرزا غالب کا تو جواب نہیں ۔۔ فرمایا :
رنگ پیراہن کا خوشبو زلف لہرانے کا نام
موسم گل ہے تمہارے بام پر آنے کا نام

اور کسی پنجابی فلم کے نغمے کے بول کچھ یوں ہیں :
بین نہ بجاوئیں منڈیا
میری گت سپنی بن جائے گی

اور پھر فارسی شعراء تک بات نکلی تو ۔۔۔۔
زلف سنبل چشم نرگس لعل لب رخسار گل
من نہ دیدم ہیچ جائے یک درخت

(ڈاکٹر عابد علی کے فکاہیہ سے استفادہ)

2 تبصرے:

نورمحمد نے لکھا ۔۔۔

زلفوں پر بہت گہری نگاہ ہے آپ کی محترم ۔ ۔ ۔ :):):)

Tehreem Tariq نے لکھا ۔۔۔

Zulfon pr itna lamba lecture


wese ab lamzi zulfen rkhta kon hai???

shayd yehi waja hai k shairi phiki phiki hai

تبصرہ میں مسکانوں کے استعمال کیلئے متعلقہ مسکان کا کوڈ کاپی کریں
:));));;):D;):p:((:):(:X=((:-o
:-/:-*:|8-}:)]~x(:-tb-(:-Lx(=))

تبصرہ کیجئے