آئینہ سچ کہتا ہے مگر ۔۔۔ - میرا شہر لوگاں سے معمور کر ‫!
ہندوستان: ہندوستان: شمالی ہند: جنوبی ہند: مشرقی مغربی ہند: تجزیہ: تجزیہ:
ہند - تاریخ/تہذیب/ثقافت: تاریخ دکن: مسلمانان ہند: کلاسیکی ادب: اردو ہے جسکا نام: ناول: جنسیات:

میرا شہر لوگاں سے معمور کر ‫!

باتاں نہیں کرتے ہم حیدرآبادی

test banner

Post Top Ad

Responsive Ads Here

Post Top Ad

Responsive Ads Here

2011-11-23

آئینہ سچ کہتا ہے مگر ۔۔۔

جہاں تک خواہش نفس کا تعلق ہے ہم سب اسی کے تو غلام ہیں۔ لاکھ کوششوں کے باوجود اسے مغلوب نہیں کر پاتے۔ تمام برائیاں ، بگاڑ ، یہ سب خواہش نفس کی تکمیل کے لئے ہماری کوششوں کا نتیجہ ہے۔ جس نے خواہش نفس کو مغلوب کر لیا وہ ولی یا پھر فرشتہ صفت بن گیا۔ یہ خواہشات نفس ہی تو ہیں جس کی وجہ سے انسان درندہ بن گیا ہے۔ ہر شئے کو پانے کی تمنا ، قناعت پسندی سے اجتناب ، کمزور ایمان ، خواہش نفس کی تکمیل کے لئے ہر جائز و ناجائز کام کے لئے اکساتے ہیں۔

رہی بات انسان کا اپنے آپ کو اچھا سمجھنے کی۔ تو یہ بھی اس کے نفس کی بدولت ہے۔ آئینہ سچ بولتا اور سچ دکھاتا ہے مگر یہ سچ اپنے سے متعلق ہو تو کڑوا ہونے کے باوجود ہمیں امرت لگتا ہے۔ ہم اپنے آپ کو دوسروں سے اچھا سمجھتے ہیں۔ اسلئے کہ بقول کسی مفکر کے ، دوسروں کی آنکھوں کا تنکا تو نظر آ جاتا ہے مگر خود کی آنکھوں کا شہتیر نظر نہیں آتا۔ ہم ہمیشہ دوسروں کا جائزہ لیتے رہتے ہیں اور خود اپنے محاسبے کی عادت نہیں ہے۔ جس دن محاسبہ کرنے لگیں گے اس دن سے ہم اپنی اصلیت کو جان جائیں گے اور ہلاکت سے بچ جائیں گے۔
جب انسان خود کو اچھا سمجھنے لگتا ہے تو دوسروں کو خود سے کمتر جاننے لگتا ہے۔ احساس برتری میں مبتلا ہو کر دوسروں کی توہین و تضحیک کرنے لگتا ہے۔ دوسروں سے متعلق اس کا رویہ ناقدانہ اور ناصحانہ ہو جاتا ہے۔ وہ خود کو خدائی فوجدار سمجھنے لگتا ہے۔ جب وہ اس مقام پر پہنچ جاتا ہے تو یہ اس کی تباہی اور زوال کا نقطہ آغاز ہو جاتا ہے۔ بس یہی اس کی ہلاکت ہے۔
مذہب سے دوری ، اخلاقی تعلیمات کی کمی ، دولت کی فراوانی ، خوشامد پسندوں کا ساتھ ، اسے اس مقام تک پہنچا دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خوشامد پسندوں سے دور رہنے کی تاکید کی گئی ، سامنے تعریف کرنے والے کے لئے قتل کی سزا رکھی گئی ہے۔ منہ پر تعریف کرنے والے کے منہ میں خاک کہا گیا۔
افسوس اس بات کا ہے کہ ہم اس قسم کے لوگوں میں رہنا پسند کرتے ہیں جو ہماری تعریف کر کے ہمیں ہلاکت میں ڈالنا چاہتے ہیں۔ اگرچہ کہ ہم یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ ہم تعریف سے خوش نہیں ہوتے ، مگر یہ حقیقت ہے کہ سچ کہنے والوں ، ہمیں اپنی اصل حقیقت دکھانے والوں کے ساتھ رہنا ہم گوارہ نہیں کرتے۔ صحت مند تنقید کرنے والوں کو ہم حاسد سمجھتے ہیں۔ اور اپنے مفادات کے لئے جھوٹی تعریف کرنے والوں کو اپنا دوست اور ہمدرد۔
جب یہی ہمدرد پوری طرح سے تباہی کے دلدل میں پہنچا دیتے ہیں تو ہوش آتا ہے مگر اس وقت تک کافی دیر ہو چکی ہوتی ہے۔

**
اقتباس بشکریہ : اداریہ ہفت روزہ "گواہ" (25/نومبر/2011) - فاضل حسین پرویز

4 تبصرے:

  1. ہر انسان فطری طور پر خوشامد پسند واقع ہوا ہے یہی وجہ ہے کہ خوشامد پسندمیں خوشامدیوں کے ہر لحاظ سے وارے نیارے ہو تے ہیں

    جواب دیںحذف کریں
  2. لکھا سب درست ہے مگر ميں اديب نہيں لوہار ہوں ۔ ميں نے ديکھا ہے کہ آئينہ بھی وہی دکھاتا ہے جو اس ميں ديکھنے والا چاہتا ہے ۔ اور جب آئينے پر ترچھی نگاہ ڈالی جائے تو جو کچھ نظر آتا ہے وہ ديکھنے والے کی انا کی تسکين کيلئے کافی ہوتا ہے ۔ ذرا غور کيجئے کہ اللہ سبحانہ و تعالٰی نے کيا فرمايا ہے " ۔ ۔ ۔ اُن کی آنکھوں پر پردہ پڑا ہے ۔ ۔ ۔ "۔

    جواب دیںحذف کریں
  3. نفس پر قابو پا لینا ہر کسی کے نصیب میں نہیں۔

    جواب دیںحذف کریں
  4. بہت عمدہ تحریر ہے ۔ جزاک اللہ۔
    انسان نفت پرستی میں اتنا مشغول ہوچکا ہے کہ اُس کو یہ اندازہ ہی نہیں رہا کہ اس دنیا کے بعد بھی ایک دن آباد ہونے والا ہے جس میں تمام خواہشات کی تسکین ممکن ہے اگر وہ اس دنیا میں اپنی نفس پرستی کو چھوڑ دے۔

    ثاقب شاہ
    colourislam.blogspot.com

    جواب دیںحذف کریں

Post Top Ad

Responsive Ads Here