نواب آف کرکٹ : منصور علی خان پٹودی کا انتقال - میرا شہر لوگاں سے معمور کر ‫!
ہندوستان: ہندوستان: شمالی ہند: جنوبی ہند: مشرقی مغربی ہند: تجزیہ: تجزیہ:
ہند - تاریخ/تہذیب/ثقافت: تاریخ دکن: مسلمانان ہند: کلاسیکی ادب: اردو ہے جسکا نام: ناول: جنسیات:

میرا شہر لوگاں سے معمور کر ‫!

باتاں نہیں کرتے ہم حیدرآبادی

test banner

Post Top Ad

Responsive Ads Here

Post Top Ad

Responsive Ads Here

2011-09-22

نواب آف کرکٹ : منصور علی خان پٹودی کا انتقال

کرکٹ نواب منصور علی خان پٹودی المعروف ٹائیگر پٹودی کا آج دہلی میں تقریباً چھ بجے شام (ہندوستانی مقامی وقت) سر گنگا رام ہسپتال میں بعمر 70 سال انتقال ہو گیا۔
انا للہ وانا الیہ راجعون

انہیں ایک ماہ قبل پھیپھڑوں کی بیماری کے سبب ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا ، سر گنگا رام ہسپتال کے ماہرین ان کے بہترین علاج کی کوششوں میں اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائے جا رہے تھے اس کے باوجود وہ قریب ایک ماہ سے آئی۔سی۔یو میں ہی داخل تھے اور ہر دن ان کی طبیعت میں مزید بگاڑ کے آثار پیدا ہو رہے تھے اور بالآخر آج انہوں نے داعی اجل کو لبیک کہا۔

ٹائیگر پٹودی کا شمار کرکٹ کے بہترین ہندوستانی کپتانوں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے ہندوستان کے لئے 46 کرکٹ ٹسٹ کھیلے۔ 2793 رن ان کے کھاتے میں شمار کئے گئے ہیں جس میں ان کا اعلیٰ ترین اسکور 203 بھی شامل ہے۔ علاوہ ازیں 6 سنچریاں اور 16 نصف سنچریاں ان کے کرکٹ ریکارڈ میں موجود ہیں۔
سن 2004ء تک ٹائیگر پٹودی کو ہندوستان کا ایسا کرکٹ کپتان مانا جاتا رہا ہے جنہیں نہایت کم عمری میں ہندوستانی کرکٹ کپتان کے عہدے پر فائز کیا گیا تھا۔ انہوں نے 40 ٹسٹ میچوں میں ہندوستانی ٹیم کی کپتانی کا فرض نبھایا اور ایک حادثے میں اپنی ایک آنکھ کو کھو دینے کے باوجود ان کی کپتانی کے کیرئیر کو نہایت کامیاب قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے بحیثیت کپتان جملہ 9 میچوں میں ہندوستان کو کامیابی دلائی۔

منصور علی خان پٹودی کے والد افتخار علی خاں پٹودی بھی ٹسٹ کرکٹ میں ہندوستان اور انگلینڈ کی نمائیندگی کر چکے ہیں۔ اینگلو انڈین کرکٹ کے فروغ میں پٹودی خاندان کی بہترین خدمات کو خراج عقیدت کی خاطر "پٹودی ٹرافی" کا سن 2007ء میں اجرا کیا گیا اور اسی سال سے ہندوستان اور انگلینڈ کے درمیان مسابقانہ کرکٹ میچوں کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ ہندوستانی حکومت نے سن 1971ء میں شاہی اقتدار کے خاتمے کا اعلان کیا تھا اور اس وقت منصور علی خان، پٹودی شاہی خاندان کے نویں نواب کے طور پر مشہور تھے۔

نواب منصور علی خان پٹودی کے پسماندگان میں ان کی اہلیہ بیگم عائشہ سلطانہ (شرمیلا ٹھاکر ، جو ہندوستانی فلم انڈسٹری کی ماضی کی معروف و مقبول اداکارہ "شرمیلا ٹیگور" کے نام سے معروف ہیں) ، اداکار سیف علی خان اور دو لڑکیاں سوہا علی خان اور صبا علی خان شامل ہیں۔

1 تبصرہ:

Post Top Ad

Responsive Ads Here