تعمیر نیوز - تازہ ترین

ہندوستان: ہندوستان: شمالی ہند: جنوبی ہند: مشرقی مغربی ہند: تجزیہ: تجزیہ:
ہند - تاریخ/تہذیب/ثقافت: تاریخ دکن: مسلمانان ہند: کلاسیکی ادب: اردو ہے جسکا نام: ناول: جنسیات:

بتاریخ : ‪2011-06-02

عزت کی خاطر قتل کے خلاف سپریم کورٹ کا تاریخ ساز فیصلہ

ہے موجزن اک قلزم خوں ، کاش! یہی ہو
آتا ہے ابھی دیکھئے کیا کیا میرے آگے

مرزا غالب کا مذکورہ بالا شعر دہراتے ہوئے سپریم کورٹ ہند کے جسٹس مارکنڈے کاٹجو اور جسٹس گیان سودھا مشرا نے "عزت کی خاطر قتل" کے ایک مقدمہ کا تاریخ ساز فیصلہ سنایا ہے۔

مکمل فیصلے کی نقل ، انگریزی میں : یہاں

واضح رہے کہ غالب کے مندرجہ بالا شعر کا مطلب یہ ہے کہ ۔۔۔
سمندر میں فی الحال جو خون سے بھری طوفانی لہریں نظر آ رہی ہیں ، کاش ! بربادی یہیں تک محدود ہو ، کیونکہ کسی کو کچھ نہیں معلوم کہ مستقبل میں اس سے زیادہ نہ جانے کیا کیا دیکھنا پڑ جائے؟

عزت کی خاطر قتل جیسے جرم کی وارداتیں زیادہ تر شمالی ہند کی ریاستیں بطور خاص پنجاب ، ہریانہ ، راجستھان اور اترپردیش میں پیش آتی رہی ہیں۔
"عزت کی خاطر قتل (honour killings)" کا ایک واقعہ دہلی میں آج سے 5 سال قبل (مئی 2006ء) پیش آیا تھا۔
ایک شخص بھگوان داس کی شادی شدہ بیٹی اپنے شوہر کو چھوڑ کر اپنے ایک رشتہ دار کے ساتھ رہنے لگی تھی۔ بیٹی کا یہ فیصلہ بھگوان داس کو اتنا توہین آمیز لگا تھا کہ اس نے اپنی "عزت کی خاطر" بجلی کے تار سے اپنی بیٹی کا گلا کاٹ کر اسے قتل کر دیا۔
دہلی کے سشن کورٹ نے اس غیر انسانی جرم کے لئے بھگوان داس کو "عمر قید" کی سزا سنائی۔

عمر قید کی سزا سے بچنے کے لئے بھگوان داس نے سپریم کورٹ کے دروازے پر دستک دی۔
مگر ۔۔۔۔
ہندوستان کے سپریم کورٹ نے 9/مئی/2011ء کو تاریخ ساز فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ :
"عزت کی خاطر قتل" کے واقعات ملک کے لئے بدنما داغ ہیں اور ایسے گھناؤنے ، غیر انسانی اور زمین دارانہ ذہنیت والے جرم کے لئے "سزائے موت" دی جانی چاہئے۔ ایسے قتل خاص الخاص (rarest of rare) زمرے میں آتے ہیں۔

معروف صحافی شاہد اے۔ چودھری اس فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ :

اگرچیکہ پہلی نظر میں عزت کی خاطر قتل کو "خاص الخاص (rarest of rare)" جرم ماننا عجیب معلوم ہوتا ہے کیونکہ جو جرم بہت عام ہو گیا ہے ، اسے rare کیسے کہا جا سکتا ہے؟
لیکن اس فیصلے کا باریکی سے جائزہ لینے کے بعد واضح ہو جاتا ہے کہ سپریم کورٹ نے "عزت کی خاطر قتل کرنے" کو اعداد و شمار سے باہر رکھ کر ٹھیک کیا ہے۔
اگر پھانسی کی سزا کو برقرار رکھنے کا مقصد مجرمانہ رجحان کے حامل افراد کو خبردار کرنا ہے کہ وہ جرم سے دور رہیں ۔۔۔ تو ۔۔۔
عزت کی خاطر قتل یقیناً ان جرائم کے زمرے میں آتا ہے جس پر فوراً روک لگانے کی ضرورت ہے۔
اس لئے یہ یقیناً rarest of rare جرم ہے !

پنچایتیں تو ضعیف الاعتقاد ذہنیت کے ساتھ کام کرتی ہیں اور اس جدید دور میں بھی دو محبت کرنے والے دلوں کو ملنے نہیں دیتیں اور اس کے لئے قتل جیسا جرم بھی کرنے کو تیار رہتی ہیں۔ اس لئے دستور کے وقار کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔ اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب پنچایتوں کو سخت پیغام دیا جائے۔ لہذا سپریم کورٹ کا فیصلہ لائق خیر مقدم ہے۔

13 تبصرے:

Anonymous نے لکھا ۔۔۔

بس جی آپ ہندوستان کے جاہل مسلمان اور بے غیرت ہندو بنیئے سے اور توقع بھی کیاکی جاسکتی ہے،
ہم مسلمانوں سے پوچھیں غیرت کس چڑیا کا نام ہے،
ہمارا بس چلے تو مارے غیرت کے پوری دنیا کو قتل کردیں بس دنیا کو ہم سے کمزور ہونا چاہیئے،
طاقتور کو تو ہم بھی یہودیوں کی طرح نہ صرف چھوڑ دیتے ہیں،بلکہ ضرورت پڑے تو تھلے لگنے سے بھی نہیں ہچکچاتے

Pakistan kay ba gairat so called Muslman

افتخار اجمل بھوپال نے لکھا ۔۔۔

ميں سوچتا ہوں کہ غيرت کے نام پر دوسرے کو قتل کرنے والے مارے غيرت کے خود کشی کيوں نہيں کرتے ؟

عنیقہ ناز نے لکھا ۔۔۔

کیا فرق ہے ایک پاکستانی اور ہندوستانی عدالت میں۔ اگر پاکستانی عدالت ہوتی تو مجرم شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری ہو جاتا۔ کیونکہ پولیس اتنے ثبوت ہی نہیں فراہم کر پاتی۔ ہمارے مذہب پرست جا کر شجدہ ء شکر بجا لاتے کہ ابھی ملک میں غیرت مند عدلیہ اور غیرت مند پولیس والے باقی ہیں۔ اس مرحلے پہ حقوق نسواں والی این جی اوز کی چال ناکام ہوئ۔ خدا اسی طرح ہمیں بلند و سرخرو رکھے۔
ایک پاکستانی سے پوچھیں تو یہی کہے گا کہ ہندوستان کا ںطام کیا جانے کہ عورت کی عصمت اور عزت کیا چیز ہوتی ہے اور غیرت کسے کہتے ہیں۔
اللہ کا شکر ہے کہ ہم نے اپنے نظام کو اس دن کے آنے سے پہلے بچا لیا۔ صد شکر کہ پاکستان بنا لیا۔ ورنہ کوئ جج ایسا فیصلہ دے دیتا تو ہماری دنیا تو خراب تھی ہی عاقبت بھی کسی قابل نہ رہتی۔
پاکستانی پارلیمنٹ میں ممبران غیرت کے نام پہ قتل کا تحفظ کرتے ہیں اور پارلیمنٹ سے باہر مذہبی جماعتیں نظر رکھتی ہیں کہ کہیں اسکےخلاف قانون نہ بن جائے۔ ورنہ خواتین کو شتر بے مہار آزادی مل جائے گی۔

Dr Jawwad Khan نے لکھا ۔۔۔

بہت خوب ....میرا ایک سوال ہے ...اور وہ یہ کہ اگر اس ہندو عورت کی جگه ایک حیدرآبادی مسلم لڑکی ہوتی اور وہ اس طرح سر عام ایک ہندو سے تعلق رکھ لیتی تو بھی کیا آپ کے یہ یہی "وچار " ہوتے؟

Anonymous نے لکھا ۔۔۔

بالکل یہی وچار ہونا چاہیئیں،
اگر ایک مسلمان لڑکی کسی ہندو یا مسلمان کے ساتھ رہ رہی ہے بغیر نکاح کیئے،تو اس کی سب سے پہلے سزا اگر کسی کو ملنا ہے تو اس کے ماں باپ کو ملنا چاہیئے جنہوں نے اپنی ذمہ داری کو ٹھیک سے نہیں نبھایا،
یقینا یہ ان کی تربیت کی خرابی کا نتیجہ ہے اب اگر وہ کچھ کرسکتے ہوں تو اتنا ہی کہ اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے لڑکی کوسمجھائیں،سمجھ جائے تو خوب ورنہ اسے اپنی قبر میں جانا ہے،اور انہیں اپنی قبر میں!

Abdullah

Dr Jawwad Khan نے لکھا ۔۔۔

عبداللہ !
کیا تم نے یہ طے کرلیا ہے کہ ہمیشہ بیوقوفوں والی بات کرنی ہے؟ ایک بالغ سخص کے قول و فعل کی سزا دوسرے بالغ شخص کو کیسے دی جاسکتی ہے؟ اور وہ بھی والدین جو پہلے ہی اس صدمے سے نڈھال ہوں اور منہ چھپائے پھر رہے ہوں؟ دنیا بغیر اعلیٰ انسانی اخلاقی اصولوں کے بغیر نہیں چلتی اور اخلاقی اصولوں میں ایک اصول یہ ہے کہ معاشرے میں موجود روایت اور اقدار کا پاس کیا جائے اور کوئی ایسی بات نہ کی جائے کہ جس سے لوگوں کو جذباتی صدمہ ہو....اگر سڑک پر کوئی شخص برہنہ گشت کرے تو اسکا یہ عمل قابل دست اندازی پولیس بن جاتا ہے. پولیس یہ کہ کر جان نہیں چھڑاتی کہ "دفع کرو اسے اس کی قبر میں جانا ہیں اورہمیں اپنی " جب ایک عمل جذباتی صدمہ دے اور اشتعال انگیز ہو تو ایسے موقع پر قانون کی خلاف ورزی پر اس کے خلاف رعایت ہونی چاہیے. اور یہ کوئی انوکھی چیز نہیں ہے دنیا بھر آئین اور قوانین ایسی حالتوں میں مجرم کو رعایت دیتے ہیں. کیونکہ ایسا شخص دوہرے صدمے سے گزرتا ہے ایک تو وہ اپنے خونی رشتہ دار کی جان لیتا ہے اور دوسرا معاشرے میں اسے ساری زندگی کے طعنے سننے کو ملتے ہیں. کیا تمھاری ڈیڑھ ہوشیاریاں انہی کاموں کے لئے رہ گئی ہیں کہ تم کالے کو سفید اور سفید کو کالا ثابت کرتے پھرو.

Hyderabadi نے لکھا ۔۔۔

ڈاکٹر جواد صاحب ، عبداللہ صاحب نے بالکل ٹھیک کہا ہے۔ البتہ بات سزا دینے کی نہیں بلکہ ذمہ داری کی ہے۔ اولاد کی اکثریت جو عمل کرتی ہے اسکے پیچھے والدین ہی کی اچھی بری تربیت کا اثر ہوتا ہے۔ معدودے چند اولاد ایسی ہوتی ہے جو والدین کی خراب تربیت کے باوجود بھٹکتی نہیں ہے۔
آپ پوچھتے ہیں کہ : "اگر اس ہندو عورت کی جگه ایک حیدرآبادی مسلم لڑکی ہوتی اور وہ اس طرح سر عام ایک ہندو سے تعلق رکھ لیتی تو۔۔۔"؟
ایک دو نہیں جناب ، پچھلے چند سالوں سے ایسے واقعات شہر حیدرآباد (دکن) میں تسلسل سے پیش آنے لگ گئے ہیں اور جس کے خلاف علماء و مشائخین کے گروہ ، اسلامی و اصلاحی جماعتیں ، اردو اخبارات وغیرہ مختلف لائحہ عمل کے ذریعے مسلمانوں میں دینی شعور کی بیداری کے کام انجام دے رہے ہیں اور ہر جلسہ ، نشست اور اجتماع گاہ میں زیادہ تر والدین ہی کو مخاطب کیا جا رہا ہے۔
دوسری طرف ۔۔۔ آپ نے جو غیرت کی بات کی ہے ، معاف کیجئے کہ میں ہندوستانی یا پاکستانی مسلمان کے جھگڑے میں پڑنا نہیں چاہتا ، مگر حقیقت یہ ہے کہ دونوں طرف کے قوانین اور ماحول معاشرہ مختلف ہے لہذا یہ "غیرت" کا معاملہ نہیں ہے بلکہ قانون کی بالادستی کا معاملہ ہے۔ ورنہ تو اسلام پاکستان میں بھی وہی ہے ہندوستان میں بھی وہی اور سعودی عرب میں بھی وہی۔ اور کم سے کم میرے علم میں ایسی کوئی آیت یا حدیث نہیں ہے کہ جس میں ایسا حکم درج ہو کہ اولاد اگر بےغیرت نکل جائے یا والدین کی مذہبی غیرت کو ٹھیس پہنچا دے تو اسے قتل کر دیا جانا چاہئے۔ اگر آپ کے علم میں شریعت کا ایسا کوئی اصول ہو تو ضرور پیش کیجئے گا ، ہماری دینی معلومات میں بھی اضافہ ہوگا۔

خرم ابن شبیر نے لکھا ۔۔۔

مجھے ان حضرات سے اختلاف ہے جو والدین کی تربیت پر بات کر رہے ہیں۔
والدین کبھی بھی یہ نہیں چاہتے کہ ان کی اولاد کبھی کوئی غلط کام کرے
اگر چار بچوں میں سے ایک بچہ والدین کے خلاف بغاوت کر دے تو پھر اس میں کس کا قصور ہوگا والدین کی تربیت کا نہیں ایسا نہیں ہوسکتا والدین ہمیشہ اپنی اولاد کو اچھی تربیت ہی دیتے ہیں۔

Anonymous نے لکھا ۔۔۔

میرے خیال سے اسلامی ممالک میں تواس مسئلہ پر کوئی متفقہ لائحہ عمل اور قانون بنایا جاسکتا ہے اور قرآن و حدیث میں براہ راست تو شاید کوئی دلیل مل سکے کہ یہ مسئلہ دور جدید کا ہے دور قدیم میں شاید ہی اس طرح کا کوئی واقعہ پیش آیا ہوگا۔ البتہ بالواسطہ طور پر مسئلہ کفاءت اس قانون کے بنانے میں بڑی حد تک مدد کر سکتا ہے۔ لیکن جو ممالک اسلامی نہیں ہیں وہاں صورت حال مشکل ہوسکتی ہے ایسے میںوالدیںن کو سمجھانے کا جو طریقہ چل رہا ہے اس سے بھی صورت حال کو کا فی حد تک کنٹرول کیا جاسکتا ہے
محمد سعید پالن پوری

Dr Jawwad Khan نے لکھا ۔۔۔

جناب حیدر آبادی صاحب ،
جرم ، جرم ہے کوئی بھی اسکی وکالت نہیں کرتا مگر مجرم کی ذہنی حالت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے خاص طور پر جب وہ کوئی عادی مجرم نہ ہو اور معاملہ نہایت اشتعال انگیز ہو تو ایسے میں قتل کے مجرم کو رعایت ضرور ملنی چاہیے. بات صرف والدین کی نہیں ہے اس میں شوھر اور بھائی بھی فریق ہو سکتے ہیں. آپ سوچئے تو سہی کہ ایک عورت سے ایک آدمی اپنے والدین کی مرضی کے خلاف شادی کرتا ہے ، سارے رشتہ داروں سے مخالفت اور سماجی مقاطع کو جھیلتا ہے ، اپنے آپ کو اس عورت کے لئے خوار کرلیتا ہے، اپنے والدین اور اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کے حقوق مارتا ہے ، نہ دین کا رہتا ہے نہ دنیا کا اور ایک دن جب وہ خلاف معمول جلد گھر آجاتا ہے تو دیکھتا ہے کہ کوئی غیر مرد اسکی عزت کا جنازہ نکال رہا ہے تو سوچئے کہ اس شخص پر کیا بیتتی ہوگی؟ کیا یہ ایک مناسب وجہ اشتعال نہیں ہے ؟ کیا فائل کو پیشہ ور قاتل کے برابر سمجھنا چاہیے ؟ یہ ٹھیک ہے کہ ایسے معاملات میں قتل کو نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے اور اسکے لئے الله سبحانه تعالیٰ نے لعان کا طریقہ بتایا ہے. لیکن یہ کوئی ایسا جرم بھی نہیں ہے کہ جس کے خلاف فیصلے پر خوشیوں کے شادیانے بجائے جائیں. آپکی پوسٹ ایک مادر پدر آزاد معاشرے میں لائق تحسین قرار دی جاسکتی ہے مگر ایک مسلم معاشرے میں سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر مسرت اور اطمنان کا اظہار میری سمجھ سے باہر ہے. .

Anonymous نے لکھا ۔۔۔

جب اللہ اوراسکے رسول نے ایک کام کرنے کا حکم نہیں دیا بلکہ اس سے سختی سے منع فرمایا تو انسانی جذبات اور ذہنی حالت گئے تیل لینے،
جرم جرم ہے اور جرم کرنے والے کو اس کے کیئے کی قرار واقعی سزا ملنا چاہیئے!
ان آنر کلنگ کرنے والوں کو سزائے موت دی جائے تب ہی یہ اس بھیانک جرم سے باز آئیں گے۔
رہی کچھ افلاطونوں کی یہ بات کہ تمام والدین اپنے بچوں کی اچھی تربیت کرتے ہیں،
تو یہ ضروری نہیں کہ والدین جسے اچھی تربیت سمجھ رہے ہوں وہ واقعتا اچھی بھی ہو!
اور یوں بھی ہوتا ہے کہ جو دوسروں کی بہو بیٹیوں کی عزت کا پاس نہیں رکھتے،ایسے واقعات ان کا مکافات عمل بھی ہوتے ہیں!

Abdullah

Anonymous نے لکھا ۔۔۔

عنیقہ بالکل سچ کہتی ہیں واقعی جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے!!!!
ان مومنین کے کرتوت دیکھیں اور واہ واہ کریں ،
یہ ہے وہ لنک جو اس منافق اعظم اور جاہل اعظم نے لگایا!
بظاہر یہ 23 مئی 2011
ڈان اخبار ہے!
http://www.dawn.com/2011/05/23/2009-us-assessment-of-karachi-violence.html
اسے کھولنے پر اوپر بلوگ اور فورم بھی لکھا نظرآتا ہے!
اور یہ کوئی خبر نہیں بلکہ ایک بلوگ پوسٹ ٹائپ افواہ ہے!
اور یہ ہے ،
23 مئی 2011
کا اصلی ڈان اخبار،
http://www.dawn.com/postt?post_year=2011&post_month=5&post_day=23&monthname=May&medium=newspaper&category=37&categoryName=Front Page
اب آپ ان دونون لنکس مین فرق ڈھونڈیئے،یہ آپ تمام حضرات کی ذہانت کا امتحان ہے!!!!!!
:)
اور پھر آپ حضرات اس ڈان مین وہ خبر ڈھونڈیئے جس کا لنک اس منافق اعظم نے لگایا ہے!
مجھ کم نظر کو تو نظر نہیں آئی،شائد آپلوگوں کو دکھ جائے!!!!!
:)
یہ جھوٹے اور ایجینسیوں کے کتے مجھے گھر پہنچا رہے تھے!!!!
اب دیکھنا یہ ہے کہ کون کتنا بڑا جھوٹا ہے اور کون کس کو گھر پہنچاتا ہے!!!!
:)
ویسے یہ کوئی نئی بات تو ہے نہیں ،
ایجینسیون کے پے رول پر بھونکنے والے ،
ایسی جھوٹی خبریں ہمیشہ سے ہی ایم کیو ایم کے خلاف بنابنا کر پھیلاتے رہے ہیں!
کبھی واشنگٹن پوسٹ لاہور سے چھپنا شروع ہوجاتا ہےتو کبھی لندن پوسٹ!!!
:)
ہمیشہ انکا جھوٹ انہی کے گلے میں آکر پڑتا ہے مگریہ بے غیرت اپنی ذلالتون سے باز آنے والے کہاں!
میں یہ تبصرہ اور بھی کئی بلاگس پر پوسٹ کررہا ہوں اگر تم نے نہیں چھاپا تب بھی سب کو لگ پتہ جائے گا،
کیاسمجھے!!!!

Abdullah

Anonymous نے لکھا ۔۔۔

http://www.qalamkarwan.com/2011/06/mqm-and-wikileakes-i-could-not-understand.html#comment-140

this is the blog link,where they do there dirty stuf!

Abdullah

تبصرہ میں مسکانوں کے استعمال کیلئے متعلقہ مسکان کا کوڈ کاپی کریں
:));));;):D;):p:((:):(:X=((:-o
:-/:-*:|8-}:)]~x(:-tb-(:-Lx(=))

تبصرہ کیجئے