تعمیر نیوز - تازہ ترین

ہندوستان: ہندوستان: شمالی ہند: جنوبی ہند: مشرقی مغربی ہند: تجزیہ: تجزیہ:
ہند - تاریخ/تہذیب/ثقافت: تاریخ دکن: مسلمانان ہند: کلاسیکی ادب: اردو ہے جسکا نام: ناول: جنسیات:

بتاریخ : ‪2011-03-22

وکی لیکس دستاویزات اور ہند - امریکی تعلقات

ہند امریکی تعلقات پر وکی لیکس کے رازوں کے دستاویزات کا ایک عرصہ سے انتظار تھا۔
معروف و معتبر انگریزی اخبار "دی ہندو" نے ان وکی لیکس دستاویزات کے افشاء کی صحافتی ذمہ داری سنبھال لی ہے جو 60 لاکھ الفاظ پر مشتمل ہیں۔ جو موضوعات زیر بحث آئے ، وہ کچھ یوں ہیں : سفارت کاری ، سیاست ، معاشیات ، سماجیات ، تہذیب اور ہوشمندی وغیرہ
ہندوستان کے تعلقات دوسرے ملکوں سے کیسے ہوں اور کس طرح انہیں موڑا جائے ، اس کا بھی تذکرہ موجود ہے۔ روس ، یورپین یونین ، مشرقی ایشیا ، اسرائیل ، فلسطین ، ایران اور تمام دیگر ممالک سے تعلقات کو کس طرح رکھا جائے کہ ہندوستان اور امریکہ کے مفادات میں ایک لکشمن ریکھا کھینچی جائے؟

وکی لیکس کے ان افشاء پر متضاد آراء ہیں۔
اس کے پیچھے مغرب کی طاقتور یہودی لابی کے ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
عالم اسلام میں آجکل جمہوریت کی جو لہر چل پڑی ہے اس کے پیچھے بھی انہی دستاویزات کا اثر بتایا جاتا ہے۔ عرب ڈکٹیٹروں کے راز انہی دستاویزات کے ذریعے منظر عام پر آئے۔
بعض تبصرہ نگاروں کا تو یہ بھی کہنا ہے کہ ضرورت کے مطابق خود امریکہ ایسے رازوں سے پردہ اٹھاتا ہے جس کا مقصد اس کے اپنے مفادات ہوتے ہیں۔ ان تمام وجوہات کے باوجود صحافت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کی تمام تر حقیقت عوام کے سامنے پیش کرے تاکہ عوام خود فیصلہ کر لیں کہ سچ کیا ہے؟

ایم۔کے۔نارائینا کی بحیثیت قومی سلامتی مشیر کے انتخاب پر امریکی ایمبسی کا تبصرہ تھا کہ : یہ کیرالہ کا مافیا ہے جو وزیراعظم ہند کے دفتر پر کنٹرول کرتا ہے۔ ایم۔کے۔نارائینا وزیر اعظم من موہن سنگھ کے اکثر فیصلوں سے کھل کر اختلاف بھی کرتے ہیں۔ وزیر اعظم پاکستان سے گفتگو کے خواہاں تھے تاکہ تعلقات کو سدھارا جائے مگر اس موضوع پر تعاون دینے کے بجائے ایم۔کے۔نارائینا نے اس کی کھل کر مخالفت کی اور وزیراعظم کو یکا و تنہا کر دیا۔ حتیٰ کہ خود کانگریس پارٹی نے خاموشی اختیار کی۔

منی شنکر ایر ہندوستان کیلئے ایران کو اہم سمجھتے تھے اور امریکہ کی ایران پالیسی کے مخالف تھے جس کا خمیازہ انہیں یہ بھگتنا پڑا کہ ہندوستانی سیاست سے ان کا پتہ یکدم صاف کر دیا گیا اور امریکہ کے تائیدی "مرلی دیورا" کا انتخاب عمل میں آیا۔
ایران کے مسئلہ پر ہندوستان اور امریکہ کے درمیان اختلاف اب بھی موجود ہے گو کہ ہندوستان کی طرف سے ایران مخالف IAEA ووٹ کے سبب ایران سے تعلقات کشیدہ ہوئے اور ہند پاک ایران گیس لائن کا معاہدہ بھی تعطل کا شکار ہوا ہے۔

وکی لیکس کی ان دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ بین الاقوامی سیاست میں امریکی دباؤ کس حد تک ہوتا ہے؟ امریکہ اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے اور افغانستان میں کامیابی کیلئے ہند و پاک تعلقات کو سدھارنا چاہتا ہے اور ہندوستان دہشت گردی کی اس لڑائی میں اپنے مفادات کا تحفظ کرنا چاہتا ہے۔

وزیراعظم من موہن سنگھ کو کمزور بتا کر جو فائدہ امریکہ اٹھانا چاہتا ہے اسکا مقابلہ ہندوستانی سفارتکاروں نے بڑی ہنرمندی سے کیا ہے اور ہندوستان کے مفادات کا تحفظ کیا ہے۔ ان دستاویزات سے ہندوستان کے اس موقف کا بھی اظہار ہوتا ہے کہ بین الاقوامی سیاست میں وہ پھونک پھونک کر قدم رکھنا چاہتا ہے ، مجبوریوں اور مفادات کے درمیان سفارت کاری اور سیاست کے بدلتے ہوئے انداز میں اپنی شناخت کو برقرار رکھنے کے ہنر سے ہندوستان خوب واقف ہے۔
آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا !!


---
اقبال احمد انجینئر کے مضمون "وکی لیکس : ہند امریکہ کے تعلقات اور لچکدار رویہ کس حد تک" سے مرتب کردہ۔ اصل مضمون (اشاعت: روزنامہ منصف ، 20-مارچ 2011ء) یہاں مطالعہ فرمائیں۔

0 تبصرے:

تبصرہ میں مسکانوں کے استعمال کیلئے متعلقہ مسکان کا کوڈ کاپی کریں
:));));;):D;):p:((:):(:X=((:-o
:-/:-*:|8-}:)]~x(:-tb-(:-Lx(=))

تبصرہ کیجئے