تعمیر نیوز - تازہ ترین

ہندوستان: ہندوستان: شمالی ہند: جنوبی ہند: مشرقی مغربی ہند: تجزیہ: تجزیہ:
ہند - تاریخ/تہذیب/ثقافت: تاریخ دکن: مسلمانان ہند: کلاسیکی ادب: اردو ہے جسکا نام: ناول: جنسیات:

بتاریخ : ‪2011-02-06

رکن پارلیمنٹ بیرسٹر اویسی :: پاکستان کے دورہ سے متعلق تاثرات

ہندوستانی ارکان پارلیمنٹ کا 7 رکنی وفد ، پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لجیسلیٹیو ڈیولپمنٹ اینڈ ٹرانسپرنسی (PILDAT) کی دعوت پر گذشتہ دنوں پاکستان کے دورہ پر تھا۔ اس وفد میں بیرسٹر اسد الدین اویسی ، رکن پارلیمنٹ حیدرآباد اور صدر کل ہند مجلس اتحاد المسلمین بھی شامل تھے۔ وفد میں بیرسٹر اویسی کے علاوہ یشونت سنہا ، منی شنکر ایر ، شتروگھن سنہا بھی موجود تھے۔
پاکستان میں اپنے ایک ہفتہ کے قیام کے دوران بیرسٹر اسد الدین اویسی کو پاکستان کے جن مسائل و معاملات کے مطالعہ و مشاہدہ کا موقع ملا ، ان کا ایک جائزہ انٹرویو کی شکل میں روزنامہ "اعتماد" (30-جنوری-2011ء) میں شائع ہوا ہے۔ کچھ اہم سوالات ذیل میں ملاحظہ فرمائیں۔


سوال :
کیا یہ بات درست ہے کہ پاکستان کی سوسائیٹی منقسم ہے؟
جواب :
ہمارے اسلام آباد پہنچنے سے ایک دن قبل گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو ممتاز قادری نے گولی مار دی تھی۔ اسلام آباد میں اس واقعہ کی خبریں انگریزی اور اردو اخبارات میں جلی سرخیوں میں شائع ہوئیں۔ تمام انگریزی اخبارات نے اس واقعہ کی مذمت کی اور اس کی شدت سے مخالفت کی جبکہ وہاں کے تمام اردو اخبارات نے اس واقعہ کی تائید میں خبریں شائع کیں اور ممتاز قادری کی ستائش کی۔ میں سمجھتا ہوں کہ میڈیا عوام کی عکاسی کرتا ہے۔ ظاہر بات ہے جب میڈیا منقسم ہے تو پھر سوسائیٹی بھی منقسم ہے۔ ہم سے بات چیت کیلئے جو 23 ارکان پارلیمنٹ آئے تھے ان میں کئی قابل ترین ہیں ، بیشتر امریکہ اور برطانیہ کی بڑی بڑی یونیورسٹیز کے فارغ التحصیل ہیں۔ بات چیت سے مجھے ایسا محسوس ہوا کہ ان کی اکثریت عام آدمی کے احساسات کی ترجمانی نہیں کر رہی۔ جبکہ وہاں ایسے ارکان بھی موجود تھے جو زیادہ تر عوامی مفاد کی باتیں کر رہے تھے۔ گفت و شنید سے تو یہ محسوس ہوا کہ پاکستان کے ارکان پارلیمنٹ غیر معمومی تعلیم یافتہ اور قابل ہیں۔

سوال :
مختلف مذہبی گروہوں میں باہمی تعلقات کیسے ہیں؟
جواب :
اس سوال کا جواب دینے سے قبل میں آپ کو یہ بتانا چاہوں گا کہ پلڈاٹ اجلاس کے پہلے دن جب لنچ ہوا تو پاکستان کے ایک رکن پارلیمنٹ جو چہرے اور لباس سے بڑے مذہبی آدمی لگ رہے تھے وہ میرے قریب آئے ، انہوں نے مجھ سے سوال کیا :
اویسی صاحب ، آپ کا مسلک کیا ہے؟
مجھے حیرت ہوئی ، میں نے ان سے الٹا سوال کیا کہ آپ کا ملک اسلامی ہے تو پھر مسلک کا سوال کیوں؟ تو انہوں نے کہا: آپ الٹا مجھ سے سوال کر رہے ہیں۔ پھر میں نے کہا : میرا مسلک عشق اور محبت کا ہے۔ وہ مسکرا کر خاموش ہو گئے۔
میں نے کراچی میں ناموسِ رسالت () کا ایک بڑا جلوس دیکھا، اس جلوس میں ہزاروں افراد شریک تھے۔ معلوم ہوا کہ تمام مکاتبِ فکر کے لوگ اس میں شامل تھے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ وہاں مذہبی گروپس میں شدید اختلافات بھی پائے جاتے ہیں۔ آئے دن ہم اخبارات میں پڑھتے ہیں کہ فلاں گروپ نے فلاں پر حملے کر دئے ، فلاں نے فلاں پر گولیاں چلا دیں۔

سوال :
کیا پاکستان میں عام آدمی یا پھر بیرونی آدمی خود کو غیر محفوظ محسوس کرتا ہے؟
جواب :
نہیں ایسا محسوس تو نہیں ہوا۔ وہاں لوگوں سے بات چیت کریں تو آپ کو بھی محسوس ہوگا کہ وہ کسی بھی قسم کے خوف و خطر کے بغیر رہتے ہیں۔ کراچی اور لاہور کی بہ نسبت اسلام آباد میں مجھے سیکوریٹی بہت زیادہ نظر آئی۔ جہاں تک بیرونی افراد کا سوال ہے تو وہاں سیکوریٹی بہت زیادہ تھی۔ مجھے میریٹ ہوٹل میں کوئی خطرہ محسوس نہیں ہوا اور نہ ہی میرے ساتھی وفد کے ارکان کو۔ وہاں اس بات کا پتہ چلا کہ جتنی بھی تشدد پسند تنظیمیں ہیں ان کا گڑھ پنجاب ہے۔ یہ تنظیمیں عوام میں کچھ حد تک مقبول بھی ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ تنظیمیں بڑے پیمانے پر چیریٹیبل کام کرتی ہیں۔

سوال :
کیا پاکستان کے موجودہ حالات ہندوستان پر اثرانداز ہو سکتے ہیں؟
جواب :
میں ایسا مانتا ہوں کہ پاکستان کی غیریقینی صورتحال ہندوستان کے لئے ایک سنگین خطرہ ہے۔ اگر آپ کے پڑوس میں بھیانک آگ لگی ہو اور آپ اپنے مکان میں دنیا کا جدید اور طاقتور ترین ائرکنڈیشن لگا لیں تو آپ کو ٹھنڈک تب تک نہیں مل سکتی جب تک پڑوس میں لگی آگ ختم نہ ہو جائے۔
ایک خوشحال پاکستان ، ہندوستان کے لئے بہتر ہوگا۔ اگر پاکستان میں تباہی ہوتی رہے گی تو ہم کیسے سکوں سے رہیں گے؟ ویسے پڑوسی تو تبدیل نہیں کر سکتے۔


***
بشکریہ : روزنامہ اعتماد ، اتوار ایڈیشن ، 30-جنوری-2011ء

8 تبصرے:

مکی نے لکھا ۔۔۔

ہاں بھئی پڑوسی تو نہیں بدلے جاسکتے... :p

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین نے لکھا ۔۔۔

محترم!

آپ نے "اعتماد" نامی جس اخبار سے بیرسٹر اسدالدین اویسی سے گفتگو کو اپنی اس حالیہ تحریر کا موضوع بنایا ہے۔ اس سے اختلاف و تائید سے قطع نظر اس کا درست ربط درج ذیل ہے۔

http://etemaaddaily.com/EtemaadArchive_files/jan/30/popups/supp1story4.asp

Abdullah نے لکھا ۔۔۔

اچھا غیر جانب داراور کافی حد تک حقیقت سے قریب تر تجزیہ کیا ہے جناب اوویسی صاحب نے!
اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر قسم کے کرپشن اور دہشت گردی کی جڑیں پنجاب میں ہی ہیں مگر یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس کے خلاف کھڑے لوگ اور اس کی بیخ کنی کرتے لوگوں کی بھی ایک بڑی تعدادپنجاب سے تعلق رکھتی ہے اور یہی بات سب سے خوش آئند ہے!!!

Abdullah نے لکھا ۔۔۔

ہاں دو تین مس کونسیپٹ ہیں جنہیں دور کرنا ضروری سمجھتا ہوں!
نمبر ایک ایم کیو ایم کو تعلیم یافتہ لوگ پسند نہیں کرتے یہ غلط ہے کیونکہ اس کی بنیاد ڈالنے والے اعلی تعلیم یافتہ لوگ تھے کراچی کی اعلی یونیورسٹیز سے فارغ التحصیل لوگ،اور اس میں لاتعداداعلی تعلیم یافتہ لوگ موجود ہیں، اویسی صاحب جن لوگوں سے ملے غالبا یہ وہ الیٹ ہیں جنہیں ایم کیو ایم اپنے نظریہ کی وجہ سے ایک آنکھ نہیں بھاتی!
دوسرے ایم کیو ایم اب صرف مہاجروں کی جماعت نہیں بلکہ اس میں کثیر تعداد میں دوسری زبانیں بولنے والے مڈل کلاس اور لوئر مڈل کلاس لوگ شامل ہیں اور اس کا سب سے بڑا ثبوت کراچی میں30 جنوری کو ہوا وسیع جلسئہ عام ہےجس میں لاکھوں لوگوں نے شرکت کی اور خاص بات یہ تھی کہ اس میں اس کے اردو بولنے والے کارکنان شریک نہیں ہوئے تھے!
آخری بات مذہبی جماعتوں سے متعلق ہے ،
مذہبی جماعتیں اپنی بنیاد میں تشدد پسند نہیں مگر ان میں ایجینسیوں کے گرگے اور مجرمانہ ذہنیت کے لوگوں کی شمولیت اور پھر انکا رفتہ رفتہ اوپر تک پہنچ جانا انہیں خراب کرنے کا باعث بنا،یہاں تک کہ ان تشدد پسند عناصر نے باقائدہ اپنی الگ مزہبی اور سیاسی جماعتیں بھی تشکیل دے لیں،اور یہی وہ لوگ ہیں جو گولیوں پر طبع آزمائی کرتے ہیں،(ایم کیو ایم کو بھی اسی طرح گندہ کرنے کی کوشش کی گئی تھی،ویسے تو پاکستان میں شائد کوئی مذہبی یا سیاسی جماعت نہں جسے گندہ نہ کیا گیا ہو)
جو جینوئن مزہبی ادارے ہیں وہ آج بھی نسبتا بہتر کام کررہے ہیں امت مسلمہ کی یک جہتی کے لیئے، گو ان کی تعدادکم ہے !!!!!!!!!!!

Abdullah نے لکھا ۔۔۔

میرا اویسی صاحب کو مشورہ ہوگا کہ اگلی بار جب وہ جائیں تو تھوڑا لمبے عرصے کے لیئے جائیں، اور ممکن ہو کراچی میں نائن زیرو ضرور جائیں،یہ میرا دعوی ہے کہ جب وہ اس 120 گز کے گھر سے نکلیں گے تو ان پر اصل صورت حال مکمل واضح ہوچکی ہوگی!
فی الحال وہ چاہیں تو اس ویب سائٹ کا وزٹ کر کے کافی معلومات حاصل کرسکتے ہیں!
http://www.mqm.org/
یہ اس لیئے کہ انشاء اللہ جلد ہی ایم کیو ایم پاکستان کی ایک بڑی جماعت ہوگی اور اس وقت شائد آپکے سیاست دانوں کو بہت سے معاملات پر اس ہی سے بات کرنا پڑے!

Hyderabadi نے لکھا ۔۔۔

مفید معلومات کی فراہمی کیلئے شکریہ عبداللہ بھائی۔
جاوید گوندل بھائی ، اصل لنک میں نے جان بوجھ کر نہیں دیا تھا کیونکہ یہ لنک کچھ عرصہ بعد ڈیڈ ہو جاتا ہے۔ اعتماد اخبار ابھی یونیکوڈ پر نہیں ہے۔ ویسے یہ مکمل انٹرویو میں نے اپنے پکاسا البم پر لوڈ کرنے کی کوشش کی تھی تاکہ اس کا ڈائرکٹ لنک دیا جاسکے مگر امیج فائل کافی زیادہ حجم کی ہے۔

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین نے لکھا ۔۔۔

حیدر آبادی بھائی صاحب!

میں نے اس مذکورہ انٹرویو کا لنک محض اس لئیے نقل کیا ہے تانکہ ہر کوئی مکمل بات چیت کو پورے سیاق سباق کے ساتھ پڑھ لے۔ اور قاری کو رائے قائم کرنے میں آزادی رہے۔

Anonymous نے لکھا ۔۔۔

ایم کیو ایم کی تعلیم کے حوالے سے کیاپالیسی رہی ہے کی وضاحت کے لیئے ایک تازہ ترین لنک!
سپر پاور بننا ہے تو علم حاصل کرو،الطاف حسین
http://ejang.jang.com.pk/2-7-2011/Karachi/pic.asp?picname=1049.gif
عبداللہ

تبصرہ میں مسکانوں کے استعمال کیلئے متعلقہ مسکان کا کوڈ کاپی کریں
:));));;):D;):p:((:):(:X=((:-o
:-/:-*:|8-}:)]~x(:-tb-(:-Lx(=))

تبصرہ کیجئے