ہندی غزل : کبھی انکار چٹکی میں ، کبھی اقرار چٹکی میں - میرا شہر لوگاں سے معمور کر ‫!
ہندوستان: ہندوستان: شمالی ہند: جنوبی ہند: مشرقی مغربی ہند: تجزیہ: تجزیہ:
ہند - تاریخ/تہذیب/ثقافت: تاریخ دکن: مسلمانان ہند: کلاسیکی ادب: اردو ہے جسکا نام: ناول: جنسیات:

میرا شہر لوگاں سے معمور کر ‫!

باتاں نہیں کرتے ہم حیدرآبادی

test banner

Post Top Ad

Responsive Ads Here

Post Top Ad

Responsive Ads Here

2010-12-10

ہندی غزل : کبھی انکار چٹکی میں ، کبھی اقرار چٹکی میں

دِوِجندر دِوِج (Dwijendra Dwij / द्विजेन्द्र द्विज)
ہماچل پردیش (دارالحکومت: شملہ) سے تعلق رکھنے والے ہندی کے مقبول نوجوان شاعر ہیں۔ ہماچل پردیش یونیورسٹی کے پوسٹ گریجویٹ اسٹڈیز سنٹر سے انگریزی میں ماسٹرز ڈگری حاصل کی ہے۔ آپ کی غزلوں کا ایک مجموعہ "جن گن من" کے عنوان سے 2003ء میں شائع ہو چکا ہے۔
دوج کی شاعری ان کے اپنے بلاگز پر پڑھی جا سکتی ہے:

کچھ ماہ قبل ایک ہندی شعری و ادبی انجمن نے ایک طرحی شعری محفل کا انعقاد کیا تھا جس کے لئے طرحی مصرع یہ دیا گیا تھا :
کبھی انکار چٹکی میں ، کبھی اقرار چٹکی میں

حاصلِ مشاعرہ غزل ، جناب دِوِجندر دِوِج (Dwijendra Dwij) کی رہی جسے ذیل میں ملاحظہ فرمائیے گا۔
اردوداں قارئین کے لئے شائد یہ بات باعثِ حیرت ہو کہ ہندی غزل خواں شعراء کے ہاں بھی کس قدر "اردو نوازی" موجود ہے۔ اس پوری غزل میں شائد ہندی کے صرف تین الفاظ موجود ہیں :
اندھیار = اندھیرا
اُجیار = اُجالا
اوتار = خدا رسیدہ آدمی

***
ہوا کے رُخ سے وہ بھی ہو گئے لاچار چٹکی میں
ہوا کے رُخ بدل دیتے تھے جو اخبار چٹکی میں

کبھی اندھیار چٹکی میں ، کبھی اُجیار چٹکی میں
کبھی انکار چٹکی میں ، کبھی اقرار چٹکی میں

بھلے مل جائے گا ہر چیز کا بازار چٹکی میں
نہیں بِکتا کبھی لیکن کوئی خوددار چٹکی میں

بہت تھے ولولے دل کے مگر اب سامنے ان کے
اُڑن چھو ہو گئی ہے طاقتِ گفتار چٹکی میں

عجب تقریر کی ہے رہنما نے امن پر یارو
نکل آئے ہیں چاقو تیر اور تلوار چٹکی میں

طریقہ ، قاعدہ ، قانون ہیں الفاظ اب ایسے
اُڑاتے ہیں جنہیں کچھ آج کے اوتار چٹکی میں

کبھی خاموش رہ کر کٹ رہے ریوڑ بھی بولیں گے
کبھی خاموش ہوں گے خوف کے دربار چٹکی میں

وہ جن کی عمر ساری کٹ گئی خوابوں کی جنت میں
حقیقت سے کہاں ہوں گے بھلا دوچار چٹکی میں

نتیجہ یہ بڑی گہری کسی سازش کا ہوتا ہے
نہیں ہلتے کسی گھر کے در و دیوار چٹکی میں

ڈرا دے گا تمہیں گہرائیوں کا ذکر بھی ان کی
جو دریا تیر کے ہم نے کئے ہیں پار چٹکی میں

پرندے اور تصور کے لئے سرحد نہیں ہوتی
کبھی اِس پار چٹکی میں ، کبھی اُس پار چٹکی میں

بس اتنا ہی کہا تھا شہر کا موسم نہیں اچھا
سزا کا ہو گیا سچ کہہ کے دِوِج حقدار چٹکی میں

3 تبصرے:

  1. اردو کے بغیر شاعری ہو ہی نہیں سکتی.. اور نا ہی ہندی کوئی شاعرانہ زبان ہے .. اور ویسے بھی اصل اردو ہی ہے، اردو میں سنسکرت کے الفاظ ٹھوک کر اور اسے دیوانگری میں لکھ کر اسے ہندی کا نام دے دیا گیا ہے اور بس..

    جواب دیںحذف کریں
  2. آپکا بلاگ بھت اچھا ھے۔ ایک اور بھت اچھا اردو بلاگ”ڈیجیٹل تختی ” ھے۔اسے بھی ملاحٍظہ کیجئے۔لنک ھے:
    http://oogyx.wordpress.com
    اگر ھو سکے تو اس کو لنک کر کے اپنے دوستوں کو ارسال کر دیں آپ کی مہربانی ہو گی جزاک اللہ :smile:

    جواب دیںحذف کریں
  3. گمنام8/6/13 11:22 PM

    :X

    Wonderfullllllllll

    جواب دیںحذف کریں

Post Top Ad

Responsive Ads Here