تعمیر نیوز - تازہ ترین

ہندوستان: ہندوستان: شمالی ہند: جنوبی ہند: مشرقی مغربی ہند: تجزیہ: تجزیہ:
ہند - تاریخ/تہذیب/ثقافت: تاریخ دکن: مسلمانان ہند: کلاسیکی ادب: اردو ہے جسکا نام: ناول: جنسیات:

بتاریخ : ‪2010-01-07

کیفی اور قتیل ـ نہلے پہ دہلا

کیفی اعظمی ہمیشہ زبانی شاعری سناتے تھے۔ انہوں نے لکھی ہوئی شاعری کبھی نہیں سنائی۔
ایک مرتبہ جب وہ مشاعرہ پڑھنے لگے تو سامعین سے کہا :
"میں نے تمام عمر زبانی مشاعرے پڑھے ہیں مگر آج جو کچھ میں نے سنانا ہے وہ لکھ کر لایا ہوں تاکہ آپ لوگ جان لیں کہ میں اَن پڑھ نہیں ہوں بلکہ پڑھا لکھا آدمی ہوں"۔
قتیل شفائی بھی وہاں موجود تھے ، بولے :
"حضرات ! کیفی صاحب کے ہاتھ میں جو کاغذ ہے وہ کورا ہے"۔
مجمع تو ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہو گیا مگر ہنسی تھمتے ہی کیفی صاحب بول اٹھے :
"سامعین ! آج معلوم ہوا ہے کہ قتیل بھی اَن پڑھ ہے۔ لکھے ہوئے کو کورا کہہ رہا ہے" !!!

7 تبصرے:

افتخار اجمل بھوپال نے لکھا ۔۔۔

اس پائے کے شاعر اب کہاں

عمر احمد بنگش نے لکھا ۔۔۔

بہت خوب :)

indscribe نے لکھا ۔۔۔

بہت خوب ادبی لطائف کے کی انتخابات ہیں بلخصوص کے یل نارنگ ساقی کی کتب
ایک دور تھا جب مجاز مرحوم کے لطیفے اتنے مشہور تھے کی مجازیفے کے نام سے شایع ہوا کرتے تھے
خیر
آپ خفا تو نہیں ہیں
اگر ہیں تو معافی طلب کرتا ہوں.

indscribe نے لکھا ۔۔۔
This comment has been removed by the author.
indscribe نے لکھا ۔۔۔

rather.......khwaastgaar hun...:)

Hyderabadi نے لکھا ۔۔۔

شکریہ عدنان بھائی۔
ویسے میں نے نارنگ ساقی کی وہ کتاب اب تک دیکھی نہیں ہے۔ اگلی چھٹی پر ضرور خریدوں گا۔
یہ لطیفہ روزنامہ اعتماد کے ادبی ایڈیشن میں نظر سے گزرا تھا۔

saadblog نے لکھا ۔۔۔

واہ جناب بہت خوب۔ ادبی لطیفہ پڑھ کے مزا آگیا

تبصرہ میں مسکانوں کے استعمال کیلئے متعلقہ مسکان کا کوڈ کاپی کریں
:));));;):D;):p:((:):(:X=((:-o
:-/:-*:|8-}:)]~x(:-tb-(:-Lx(=))

تبصرہ کیجئے