مقابلۂ حسن - میرا شہر لوگاں سے معمور کر ‫!
ہندوستان: ہندوستان: شمالی ہند: جنوبی ہند: مشرقی مغربی ہند: تجزیہ: تجزیہ:
ہند - تاریخ/تہذیب/ثقافت: تاریخ دکن: مسلمانان ہند: کلاسیکی ادب: اردو ہے جسکا نام: ناول: جنسیات:

میرا شہر لوگاں سے معمور کر ‫!

باتاں نہیں کرتے ہم حیدرآبادی

test banner

Post Top Ad

Responsive Ads Here

Post Top Ad

Responsive Ads Here

2009-07-26

مقابلۂ حسن

سچ پوچھئے تو ہمیں صرف مقابلۂ حسن کے جج دل سے پسند ہیں !

مقابلہ عالمی حسینہ کا ہو یا کائناتی حسینہ کا ، انھیں کوئی پریشانی نہیں ہوتی۔ ان کے اصول و ضوابط میں کوئی جھول نہیں۔ ججوں کا زاویہ نگاہ بھی مقرر ہے۔ اور ان کی نظر بہت گہری ہوتی ہے۔ یہ ہر امیدوار کے ہر پہلو کا "دیدہ ریزی" کے ساتھ معائنہ اور مشاہدہ کرتے ہیں۔
ان کے کاغذی پیرہن صرف سطور کے نہیں بین السطور کے بھی مظہر ہوتے ہیں۔ ان ججوں کو اپنا فیصلہ صادر کرنے میں اول تو کوئی دقت اس لئے نہیں ہوتی کہ ۔۔۔۔۔
ساری کی ساری امیدوارائیں ایک سانچے میں ڈھلی ہوئی ہیں۔ (کوئی چیز ڈھکی نہیں ہوتی)۔
صرف ان کی سرزمین الگ ہوتی ہے۔
ورنہ یہ سب طرحی غزلیں ہوتی ہیں۔
بحر ایک ، قافیہ ایک، ردیف ایک۔
صرف یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ بندش کس شعر کی چست ہے اور ان میں بولتا ہوا شعر کون سا ہے؟
ان میں سے ایک شعر بہت زیادہ بولتا ہوا ہونا چاہئے اور اس کا پہلا مصرع ہی جان لیوا ہونا چاہئے۔
یہی جان لیوا شعر بیت الغزل ہوتا ہے۔

ججوں کو تین بولتے ہوئے شعر پسند کرنے پڑتے ہیں۔ ان کا تجربہ ، تجزیہ کرنے کی "مہارت" ، ان کی دانائی (جو ان کی بینائی سے بھی زیادہ تیز اور بھرپور ہوتی ہے) ان کی آنکھوں میں اتنی روشنی پیدا کر دیتی ہے کہ خود امیدوارائیں حیرت زدہ ہو جاتی ہیں کہ ان بوڑھی آنکھوں میں اتنی روشنی کہاں سے آگئی؟
اس مقابلہ حسن کے جج اس لحاظ سے بھی قابل تعریف ہوتے ہیں کہ ان کتابی چہروں کے مطالعے کے لئے انھیں زیادہ وقت نہیں دیا جاتا اور "تنہائی" کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔
جو کچھ دیکھنا ، دکھانا اور پڑھنا، پڑھانا ہے ، ناظرین کی آنکھوں کے سامنے ہی یہ کام کرنا پڑتا ہے۔ (سارے ناظرین دیدے پھاڑ پھاڑ کر دیکھنے والے ہوتے ہیں، ان میں سے بعض ناظرین کی آنکھیں تو ابل پڑتی ہیں)۔
ان ججوں پر نہ تو مجمع کا کوئی اثر ہوتا ہے اور نہ وقت کی تنگی کا احساس۔ وہ متعینہ وقت میں اپنا حتمی اور مطلق فیصلہ سنا دیتے ہیں۔
یہ ایسا امتحان ہوتا ہے جس میں امتحانی پرچوں کی دوبارہ جانچ کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔

مقابلہ حسن کے ججوں کے فیصلے کو سپریم کورٹ کا فیصلہ نہیں، قدرت کا فیصلہ مانا جاتا ہے۔ اور تین امیدوارائیں فتح یاب ہو کر تالیوں کی گونج اور نعرۂ ہائے تحسین کے شور میں (عملی جامے میں ملبوس) تاج پوشی کے لئے شہ نشین پر ایستادہ ہو جاتی ہیں۔ (یہ کمربستہ نہیں ہوتیں کیوں کہ یہ چیز ان کے یہاں ہوتی ہی نہیں ہے)۔

- یوسف ناظم

4 تبصرے:

  1. ہا ہا ہا
    بہت عمدہ اور خوبصورت منظر نگاری

    جواب دیںحذف کریں
  2. ان ججوں پر نہ تو مجمع کا کوئی اثر ہوتا ہے اور نہ وقت کی تنگی کا احساس۔ وہ متعینہ وقت میں اپنا حتمی اور مطلق فیصلہ سنا دیتے ہیں

    جواب دیںحذف کریں
  3. آپ تمام کی پسندیدگی کا بہت بہت شکریہ

    جواب دیںحذف کریں

Post Top Ad

Responsive Ads Here