تعمیر نیوز - تازہ ترین

ہندوستان: ہندوستان: شمالی ہند: جنوبی ہند: مشرقی مغربی ہند: تجزیہ: تجزیہ:
ہند - تاریخ/تہذیب/ثقافت: تاریخ دکن: مسلمانان ہند: کلاسیکی ادب: اردو ہے جسکا نام: ناول: جنسیات:

بتاریخ : ‪2009-05-18

مجلس مخالف جماعت کو حاصل دو لاکھ ووٹوں کی حقیقت

روزنامہ "سیاست" کے کل اتوار 17-مئی کے شمارے میں محترم زاہد علی خان صاحب کا بیان آیا ہے جس کے کچھ الفاظ یوں ہیں ‫:
۔۔۔ پرانے شہر کے عوام کی ایک بڑی تعداد نے پہلی مرتبہ اپنے رحجان سے انحراف کرتے ہوئے ان پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا ہے جو اس بات کا غماز ہے کہ عوام کا ایک طبقہ تبدیلی کا خواہاں ہے۔۔۔
۔۔۔ 1.82 لاکھ عوام نے انہیں ووٹ دیا ہے جو دراصل ان لوگوں کی بھی کامیابی ہے جو فلاح کے حامی تھے۔۔۔۔
۔۔۔۔ 1.82 لاکھ رائے دہندوں کا ان کے حق میں ووٹ کا استعمال کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ ان کے اور ادارہ سیاست کی خدمات سے متاثر ہیں اور چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کی سیاسی قیادت ان ہی کے ہاتھوں میں ہونی چاہئے جو ملت کے مفادات کو اپنے ذاتی مفادات پر ترجیح دیتے ہیں اور سیاسی قوت کے ذریعہ مسلمانوں کی ترقی کی رفتار کو سرعت آمیز بنانا چاہتے ہیں۔۔۔


ایسا ہی ایک بیان ایک ایڈوکیٹ صاحب کریم الدین شکیل نے آج کے اردو اخبارات میں داغا ہے کہ ‫:
ملت نے تقریباً 2 لاکھ ووٹ زاہد علی خان کو عطا کئے جو یقیناً حیدرآباد میں ایک عظیم انقلاب کا پیش قیمہ ہے اور اس بات کا ثبوت ہے کہ اب پرانے شہر کے عوام مزید استحصال برداشت نہیں کر سکتے۔

اسی طرح بعض معصوم اور کم علم افراد "1.82 لاکھ ووٹ" کے اس پروپگنڈے کا شکار ہو کر سمجھ رہے ہیں کہ یہ مجلس اتحاد المسلمین کی غیر مقبولیت کا نتیجہ ہے۔

اگر جھوٹ بولنے اور حقائق کو توڑ موڑ کر پیش کرنے کا کوئی تمغہ ہو تو اس قسم کے بیانات پر ضرور بالضرور دیا جانا چاہئے۔
ہمارے قابل احترام دانشورانِ صحافت نجانے کیوں اپنے شہر کے عوام کو اس قدر بدھو سمجھتے ہیں؟ اللہ ان لوگوں کو ہدایت دے جو کسی دوسرے کی مقبولیت کے حسد میں اپنی شخصیت کو قدآور ثابت کرنے کے لئے حقائق کو الفاظ کی قوت سے بدلنے سے نہیں ہچکچاتے۔

یہ پہلے بھی کئی بار کہا جا چکا ہے کہ محترم زاہد علی خان کی انفرادی ملی خدمات اور ادارہ سیاست کے فلاحی معاشرتی خدمات سے کسی کو انکار نہیں ہے۔ لیکن یہ کہنا کہ انہی وجوہات سے 1.82 لاکھ ووٹ حاصل ہوئے ہیں دنیا کا سب سے بڑا جھوٹ ہے ‫!
جب سے حیدرآباد کی پارلیمانی نشست پر مجلس منتخب ہوتی رہی ہے تب ہی سے مجلس مخالف جماعت نے بھی برابر کا مقابلہ کیا ہے۔

الکشن کمیشن کی ویب سائیٹ سے ذیل میں اعداد و شمار ملاحظہ فرمائیں۔
حوالے کے لئے ربط : http://ibnlive.in.com/politics/stats

‫1989 میں صلاح الدین اویسی کو 4 لاکھ اور تلگو دیشم کے کرشنا ریڈی کو 2.7 لاکھ
‫1991 میں مجلس کو 4.5 لاکھ اور بی-جے-پی کے بدم بال ریڈی کو 4.1 لاکھ
‫1996 میں مجلس کو 3.2 لاکھ اور بی-جے-پی کو 2.5 لاکھ
‫1998 میں مجلس کو 4.8 لاکھ اور بی-جے-پی کو 4.1 لاکھ
‫1999 میں مجلس کو 4.5 لاکھ اور بی-جے-پی کو 4 لاکھ
‫2004 میں اسد الدین اویسی کو 3.8 لاکھ اور بی-جے-پی کو 2.8 لاکھ
اور اب ۔۔۔
‫2009 میں اسد الدین اویسی کو 3 لاکھ اور تلگو دیشم کے زاہد علی خان کو 1.8 لاکھ

درج بالا حقائق سے ثابت ہے کہ حیدرآباد پارلیمانی حلقے کے سارے عوام نے کبھی بھی 100 فیصد ووٹ سے مجلس کو نہیں نوازا۔ بلکہ مقابلہ ہمیشہ مجلس اور مجلس مخالف جماعت میں ٹکر کا رہا ہے جس میں ہمیشہ سے مسلم اکثریتی ووٹ کو فتح حاصل ہوئی ہے، چاہے مسلمانوں کی کچھ تعداد مجلس مخالف پارٹی کو ہی کیوں نہ ووٹ دے۔

اگر محترم زاہد علی خان اور ان کے کم علم حمایتیوں کا یہ دعویٰ ہے کہ انہیں حاصل شدہ ووٹ حیدرآباد کے مسلمانوں کی ذہنی تبدیلی کی نشانی ہے تو ۔۔۔۔
تو درج بالا اعداد و شمار کو نظر میں رکھتے ہوئے یہ بھی ماننا پڑے گا کہ 1989ء سے ہی حیدرآبادی مسلمان اسی "ذہنی تبدیلی" کے ساتھ بی-جے-پی کو لانے کمربستہ رہے ہیں۔
کیا ایسا غیر معقول اور بےتکا تجزیہ ہمیں قبول ہو سکتا ہے؟
ظاہر ہے کہ حیدرآبادی مسلمانوں کی اکثریت بی-جے-پی کی اقلیت دشمنی سے نفرت کرتی ہے اور کسی بھی حال بی-جے-پی یا اسی ذہنیت کی حامل کسی بھی غیرمسلم جماعت کو حیدرآباد کی پُروقار پارلیمانی نشست پر قابض دیکھنا نہیں چاہتی۔ اس کا واضح ثبوت برسوں سے چلے آ رہے حیدرآبادی مسلم اکثریتی اسمبلی حلقوں میں مجلس کی نمایاں کامیابی ہے۔

ان اعداد و شمار اور حقائق کے غیرجانبدارانہ تجزیے سے صاف ظاہر ہے کہ زاہد علی خان اور ان کے مقلدین کا "ذہنی تبدیلی" کا دعویٰ ایک کھوکھلا اور جھوٹا دعویٰ ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔
کیونکہ 2009ء کے اس الکشن میں زاہد علی خان کو قطعاً ووٹ حاصل نہیں ہوئے بلکہ یہ درحقیقت وہی ووٹ ہیں جو برسوں سے جاری مجلس مخالفت کے تحت مجلس مخالف قوتوں کی جانب سے مجلس مخالف جماعت کو دئے گئے ہیں اور دئے جا رہے ہیں۔ ثبوت الکشن کمیشن کے درج بالا نتائج سے ظاہر ہے۔
لہذا یہ کہنا حیدرآبادی مسلمانوں کی توہین ہے کہ وہ اپنی کلمہ گو جماعت کو چھوڑ کر کسی بُت پرست جماعت کو "ذہنی تبدیلی" کے نام پر ووٹ دے گی۔

اس طرح کا بےبنیاد اور حقائق کے برخلاف دعویٰ کرنے والوں کو حیدرآبادی مسلمانوں سے معافی مانگنی چاہئے ‫!!

2 تبصرے:

Anonymous نے لکھا ۔۔۔

kia hi acha hota kay yeh 4.8 lakh vote musalmano ki aik hi jmaat ko pertay, lekin aap say kia kahain humain khod bhi Pakistan main aesi hi sorate haal ka samna rahta hay wahan jageerdar,sarmayadaar vs middle class hay or middle class ki wahi herkatain hain jo India kay musalmano ki hain bus Allah hi musalmano ko aqal day to day,
Abdullah

Hyderabadi نے لکھا ۔۔۔

اجنبی صاحب ، تبصرے کا شکریہ۔ لیکن حیدرآباد میں سو فیصد ووٹ صرف مسلم طبقے کے نہیں ہیں بلکہ یہاں غیرمسلم بھی ایک معقول تعداد میں بستے ہیں جن کی اکثریت بی-جے-پی نواز ہے۔ یہی وجہ ہے کہ برسوں سے مقابلہ مذہبی بنیاد پر ٹکر کا ہوتا رہا ہے۔ غیرمسلم طبقہ کی کوشش یہی رہتی ہے کہ کسی طرح حیدرآباد پارلیمانی حلقے پر برسوں سے جاری ایک مسلم جماعت کا قبضہ ختم کیا جائے۔ اس کے لئے ہر طرح کی سازش رچی جاتی ہے مگر الحمدللہ گزشتہ دو دہوں سے مجلس مخالفین کو ناکامی کا سامنا ہے۔

تبصرہ میں مسکانوں کے استعمال کیلئے متعلقہ مسکان کا کوڈ کاپی کریں
:));));;):D;):p:((:):(:X=((:-o
:-/:-*:|8-}:)]~x(:-tb-(:-Lx(=))

تبصرہ کیجئے