تعمیر نیوز - تازہ ترین

ہندوستان: ہندوستان: شمالی ہند: جنوبی ہند: مشرقی مغربی ہند: تجزیہ: تجزیہ:
ہند - تاریخ/تہذیب/ثقافت: تاریخ دکن: مسلمانان ہند: کلاسیکی ادب: اردو ہے جسکا نام: ناول: جنسیات:

بتاریخ : ‪2009-04-05

وہ اپنے ہونٹوں پہ کھلتے گلاب رکھتے ہیں



بدن میں آگ سی چہرا گلاب جیسا ہے
کہ زہرِ غم کا نشہ بھی شراب جیسا ہے
- احمد فراز

بنا گلاب تو کانٹے چبھا گیا اک شخص
ہوا چراغ تو گھر ہی جلا گیا اک شخص
- عبیداللہ علیم

وہ پاس بیٹھے تو آتی ہے دلربا خوشبو
وہ اپنے ہونٹوں پہ کھلتے گلاب رکھتے ہیں
- حسرت جے پوری

وہ گُل فروش کہاں اب گلاب کس سے لوں
نہیں رہا میرا ساقی شراب کس سے لوں
- انور شعور

نہ غبار میں نہ گلاب میں مجھے دیکھنا
میرے درد کی آب و تاب میں مجھے دیکھنا
- ادا جعفری

عجب طرح کا ہے موسم کہ خاک اُڑتی ہے
وہ دن بھی تھے کہ کھلے تھے گلاب آنکھوں میں
- افتخار عارف

تھما کے اک بکھرتا گلاب میرے ہاتھ
تماشا دیکھ رہا ہے وہ میرے ڈرنے کا
- ہری منچندا بنی

اب عطر بھی ملو تو محبت کی بو نہیں
وہ دن ہوا ہوئے کہ پسینہ گلاب تھا
- مدھورام جوہر

سنا ہے اس کے لبوں سے گلاب جلتے ہیں
سو ہم بہار پر الزام دھر کے دیکھتے ہیں
- احمد فراز

وہ فراق ہو یا وصال ہو ، تری یاد مہکے گی ایک دن
وہ گلاب بن کے کھلے گا کیا ، جو چراغ بن کے جلا نہ ہو
- بشیر بدر

2 تبصرے:

Billu نے لکھا ۔۔۔

وہ فراق ہو یا وصال ہو ، تری یاد مہکے گی ایک دن
وہ گلاب بن کے کھلے گا کیا ، جو چراغ بن کے جلا نہ ہو
Buhat Khoob

محمد وارث نے لکھا ۔۔۔

واہ بہت خوبصورت اشعار ہیں، فیض کا ایک قطعہ

تمام شب دلِ وحشی تلاش کرتا ہے
ہر اک صدا میں ترے حرفِ‌لطف کا آہنگ
ہر ایک صبح ملاتی ہے بار بار نظر
ترے دہن سے ہر اک لالہ و گلاب کارنگ

تبصرہ میں مسکانوں کے استعمال کیلئے متعلقہ مسکان کا کوڈ کاپی کریں
:));));;):D;):p:((:):(:X=((:-o
:-/:-*:|8-}:)]~x(:-tb-(:-Lx(=))

تبصرہ کیجئے