ملنا دو پڑوسیوں کا ۔۔۔۔ - میرا شہر لوگاں سے معمور کر ‫!
ہندوستان: ہندوستان: شمالی ہند: جنوبی ہند: مشرقی مغربی ہند: تجزیہ: تجزیہ:
ہند - تاریخ/تہذیب/ثقافت: تاریخ دکن: مسلمانان ہند: کلاسیکی ادب: اردو ہے جسکا نام: ناول: جنسیات:

میرا شہر لوگاں سے معمور کر ‫!

باتاں نہیں کرتے ہم حیدرآبادی

test banner

Post Top Ad

Responsive Ads Here

Post Top Ad

Responsive Ads Here

2008-12-13

ملنا دو پڑوسیوں کا ۔۔۔۔

پورے 9 دن کی چھٹیوں کے بعد دوبارہ آفس آنا ہوا ہے۔
ایسا لگتا ہے جیسے کام کئے ایک عرصہ گزر گیا۔ اوپر سے آفس کے ساتھیوں سے عید کی جھپیاں لینا ۔۔۔۔۔
خیر اپنے ہندوستانی اور پاکستانی دوستوں کے ساتھ تو کوئی مسئلہ نہیں ، مگر ان عرب لوگوں کے ساتھ ۔۔۔؟؟
اللہ کی پناہ ! گال پر اتنی پپیاں تو ہم نے اپنے بچوں کی بھی نہیں لیں کسی دن ، یہاں تو ایک گھنٹے میں قسم قسم کی ڈاڑھیوں کو چومتے چومتے لگا کہ اب ڈاڑھیوں کی اقسام پر ایک بہترین مقالہ تحریر کیا جا سکتا ہے۔
اوپر سے یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ عرب لوگ ڈاڑھی کو بھی عطر کیوں لگاتے ہیں ؟؟
مختلف اقسام کے عطر سے ہمارے گال تو چھوڑیں حلق تک پھیلی عطر کی بُو نے برا حال کر رکھا ہے۔ اب دوپہر میں کھانا کھائے جائے گا بھی کہ نہیں ۔۔۔۔ یہ سوچ کر ہَول ہو رہا ہے کہ منہ ، حلق اور دماغ عطردان بنا ہوا ہے اس وقت۔

عید ملنے پر یاد آیا کہ ۔۔۔۔۔۔
اِس حج کے دوران مشاعر مقدسہ میں دو حاجی ایک دوسرے سے ٹکرائے۔
ہندوستان کے محمد شرف الدین
اور
پاکستان کے محمد ارشد ذوالفقار
پھر کیا ہوا ؟؟
پھر اس منظر نے من موہن دیسائی کی ہندی فلموں کی یاد دلا دی جس میں دوست یا بھائی جو بچپن میں برے حالات کے تحت بچھڑتے ہیں تو بڑے ہونے پر دوبارہ مل جاتے ہیں۔
دونوں حاجیوں نے بھی آنسوؤں اور یادوں کا سلسلہ بہایا۔
سیاسی اختلافات نے اس قدر بڑی خلیج پیدا کر دی ہے کہ ہم پڑوسی ایک دوسرے کے قریب ہونے کے باوجود بھی ملاقات نہیں کر سکتے۔
چند ماہ قبل آمد و رفت کا سلسلہ بڑھا تھا اور تجارتی تعلقات میں بھی بہتری آئی تھی لیکن ممبئی دھماکوں کے سبب دوبارہ کشیدگی کے بادل چھا گئے ہیں۔

آئیے ، ہم اختلافات بھول کر ارضِ مقدس میں اُن دونوں حاجیوں کی مانگی گئی دعا کو دہراتے ہیں کہ ۔۔۔۔۔
اے اللہ ! اس کشیدگی کو جلد ختم کر دے اور کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے اور دونوں ممالک امن و سلامتی اور ترقی و خوشحالی کے راستے پر گامزن ہوں۔

4 تبصرے:

  1. اس دعا کی قبولیت کیلیے ضروری ہے کہ خدا ہمارے سیاستدانوں اور حکمرانوں کو عقل سلیم دے۔

    جواب دیںحذف کریں
  2. آپ نے بجا فرمایا۔
    اس کے علاوہ بھی حکمت عملی کا خاصا فقدان پایا جاتا ہے ان دونوں طبقات میں۔

    جواب دیںحذف کریں
  3. اٰمین ثم اٰمین
    اور ساتھ یہ بھی کہ یہ دونوں راستے پر گامزن ہی نا ہوں انکو منزل نظر بھی آیے کم سے کم
    چل تو ہم ویسے منزل کی سمت مخالف میں رہے ہیں

    جواب دیںحذف کریں
  4. اللہ ہی ہدیات دے ہمارے لیڈران کو۔ ہم دعا ہی کر سکتے ہیں، لیکن مجھے نہیں لگتا کہ کچھ سنبھلے گا۔

    جواب دیںحذف کریں

Post Top Ad

Responsive Ads Here