پڑئیے گر بیمار ۔۔۔ - میرا شہر لوگاں سے معمور کر ‫!
ہندوستان: ہندوستان: شمالی ہند: جنوبی ہند: مشرقی مغربی ہند: تجزیہ: تجزیہ:
ہند - تاریخ/تہذیب/ثقافت: تاریخ دکن: مسلمانان ہند: کلاسیکی ادب: اردو ہے جسکا نام: ناول: جنسیات:

میرا شہر لوگاں سے معمور کر ‫!

باتاں نہیں کرتے ہم حیدرآبادی

test banner

Post Top Ad

Responsive Ads Here

Post Top Ad

Responsive Ads Here

2008-03-11

پڑئیے گر بیمار ۔۔۔

سب سے پہلے تو یہ دعا ہے کہ کوئی بیمار نہ پڑے اور بقول غالب ‫:
پڑئیے گر بیمار تو کوئی چارہ گر نہ ہو
دوسری دعا یہ ہے کہ کوئی وی۔آئی۔پی کبھی بیمار نہ پڑے اور اگر بیمار ہو بھی جائے تو چارہ گروں اور مسیحاؤں سے بچا رہے۔ بیمار کو بیماری سے زیادہ چارہ گروں سے وحشت ہوتی ہے اور اس سے بھی زیادہ اُن مشوروں سے ہوتی ہے جو ماہرَ طب سے زیادہ ایک تیماردار دیتا ہے۔
اچھا بیمار وہی ہوتا ہے (جو بہت جلد اچھا بھی ہو جاتا ہے) جو چارہ گر کی نصیحت ، تیماردار کے مشورے اور ڈاکٹروں کی دوائی کو چپکے سے پھینک دیتا ہے۔
ایک صاحب بہت بیمار رہتے تھے ، بلکہ بیماری ان کی عادتِ دیرینہ بن چکی تھی ، بیماری ان کے پاس جانے سے شرماتی نہ ان کو بیماری کے پاس جانے میں شرم آتی۔ ان سے کسی نے پوچھا : بھئی ، یہ تم ہر وقت بیمار رہتے ہو ، ہاتھ اور جیب میں دوائیوں کے نسخے اور دواؤں کی تھیلیاں ، آخر تم یہ سب کیسے برداشت کر لیتے ہو؟
بولے : بھائی ، اس کے پیچھے ایک کہانی ہے جو سبق آموز بھی ہے ، ورنہ آج کل کی کہانیوں میں کہانی ہوتی ہے نہ کوئی سبق بالکل اُسی طرح جیسے ٹی۔وی سیرئیلز یا فلموں کی کہانی میں ہوتا ہے۔ کتابیں تو عرصہ ہوا عنقا ہوئیں اور لوگ تو وہ محاورہ بھی بھول گئے جو ایک معصوم بھولے جانور سے منسوب ہے کہ جس کے سینگ نہیں ہوتے لیکن ان کو لوگ اب بھی یاد کرتے ہیں اور غائب بتاتے ہیں۔
بہرحال ان صاحب نے سلسلہ کہانی جاری رکھتے ہوئے کہا : سنو ! آج کی اس مہنگی دنیا میں ڈاکٹروں اور اطباء کو بھی تو زندہ رہنا ہے ، اسپتال ہیں ، ان کے مالکین اور عملے کو بھی تو زندہ رہنا ہے ، پھر یہ میڈیکل شاپس ہیں ، انہیں بھی تو زندہ رہنا ہے ۔۔۔
اور پھر میں ان سب مرحلوں سے گزر کر جب دوائیں خریدتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ میں نے ان سب کی روزی روٹی اور زندگی کا سامان تو مہیا کروا دیا ہے۔ پھر میں یہ ساری دوائیں گھر لے جا کر موری میں بہا دیتا ہوں ۔۔۔ کیونکہ ۔۔۔
آخر مجھے بھی تو زندہ رہنا ہے ‫!!

یہ سارا قضیہ ، تنازعہ یا قصہ یا کہانی اس لیے یاد آئی کہ ایک انار اور سو بیمار والا محاورہ یاد آ گیا۔ یہ محاورہ اس لیے یاد آیا کہ ہماری ریاست کے ایک وزیر نے ایک اعلان کیا تھا۔
وہ اعلان یہ تھا کہ : اب ریاست کے غریبوں کا علاج بھی "وی۔آئی۔پی" ہوگا اور ڈاکٹروں کی پوری ٹیم ان کے امراض کا علاج کرے گی۔
اس پر یاد آیا کہ اب "ایک انار سو بیمار" نہیں ہوں گے بلکہ "ایک بیمار اور سو انار" ہوں گے۔ یہ اعلان سن کر ہمارے جیسے غریبوں کی جان ہی نکل گئی۔ "وی۔آئی۔پی" حضرات پر بڑا ترس آتا ہے ، خدا کسی وی۔آئی۔پی کو بیماری نہ دے اور بیماری دے تو کسی کو خبر نہ ہو۔ خاص طور پر ڈاکٹروں کو۔ اسی لیے غالب نے بہت پہلے ہی تاڑ لیا تھا کہ بیسویں اور اکیسویں صدی میں بیماروں اور ان سے بھی زیادہ تیمارداری اور چارہ گروں کا کیا رول ہوگا؟
ان وزیر موصوف کے اعلان پر ہمیں پسینہ آ گیا کہ یا خدا ! اب ہم غریبوں کا علاج بھی "وی۔آئی۔پی" کے زمرے سے ہوگا۔ اور اتنا ہی نہیں ہماری بیماری ، یعنی چھینک ، زکام ، نزلہ ، کھانسی وغیرہ (بڑی بیماریاں دل ، جگر ، گردہ کی نہیں) کا علاج ڈاکٹروں کی ٹیم کرے گی۔ یہ سوچ کر ہی دل کی دھڑکنیں بند ہونے کے قریب پہنچ گئیں۔ "وی۔آئی۔پی" کا علاج ایک ڈاکٹر سے نہیں ڈاکٹروں کی ٹیم کے ذریعہ ہوتا ہے۔
ایک ڈاکٹر دل کا ہوتا ہے تو دوسرا جگر کا ، تو تیسرا گردے کا ، چوتھا دماغ کا ، پانچواں اعصاب کا ، چھٹا نفسیات کا ، ساتواں انستھیسیا (بیہوش کرنے والے) کا ، آٹھواں ہوش میں لانے کا ، نواں حرکتَ قلب جانچنے والا ، دسواں دھڑکنیں گننے والا وغیرہ وغیرہ۔ اور ان کے ساتھ ان کے اتنے ہی اسسٹنٹس ، اتنی ہی نرسیں (مرد و خواتین) بھی ہوتی ہیں۔ اتنے ہجوم کو دیکھ کر ہی ایک اچھا بھلا انسان ہوش میں ہے تو بیہوش ہو جائے ، وحشت اتنی ہو جائے کہ وحشی بن جائے۔
ایک بیمار سو انار اسی کو کہتے ہیں ‫!!

--------
مضمون : 100 انار ۔۔۔۔۔
مضمون نگار =
ذہانت علی بیگ
(اقتباس بحوالہ : روزنامہ اعتماد ، حیدرآباد ، اتوار ایڈیشن ، 27۔ جنوری 2008ء )

4 تبصرے:

  1. سو بیماری کا ایک علاج
    ایک سیب کھائیے منہ نہار

    اگر ہو جائے سر میں درد یا پیٹ خراب
    پھکی لیں سفید زیرہ سؤنف کی کھانے کے بعد
    ڈاکٹر کے پاس جانے سے پرہیز کریں
    ورنہ ہو جائیں گے پہلے سے زیادہ بیمار

    جواب دیںحذف کریں
  2. Terrific blog. Although I need to squint quite a bit to read the script. I didn't know it was possible to blog in Urdu. My template only shows a few other languages and Urdu isn't there. I guess I need to find out more.

    Anyway, keep up the good work. Found you through your comment at Indscribe's blog .

    جواب دیںحذف کریں
  3. اجمل صاحب ! دوبارہ خوش آمدید۔ آپ بہت دن بعد آئے۔ امید کہ اب آپ بخیریت ہوں گے کہ آپ کے بلاگ کے ذریعے آپ کی خرابیء صحت کی تشویش ناک اطلاع ملی تھی۔
    mummyjaan
    آپ کا آئی۔ڈی ایسا ہے کہ نام لیتے ہوئے ہچکچاہٹ سی ہوتی ہے ، :) ۔ بلاگ پر ہم آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں ، تعریف کا شکریہ۔ کیا آپ اردو جانتی ہیں؟ ابھی میں آپ کے بلاگ اپیا اور ببو کا مطالعہ کر رہا ہوں۔

    جواب دیںحذف کریں
  4. Salams, sorry that I never returned here to follow up this blog or the comment thread.
    Yes, I know Urdu; however I need to enlarge the font on your page to read comfortably :), and I admit, I rarely browse the web in any language other than English. Thank you for visiting my blog.

    جواب دیںحذف کریں

Post Top Ad

Responsive Ads Here